07:07 pm
وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب اور ایران کے مابین سہولت کارکا کردار ادا کیا، صابر شاکر

وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب اور ایران کے مابین سہولت کارکا کردار ادا کیا، صابر شاکر

07:07 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئرملکی صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب اور ایران کے مابین حائل اختلافات کے خاتمے کےلئے کردار ادا کررہے ہیں۔یوٹیوب پر اپنےایک ویڈیو پیغام میں صابر شاکر کاکہناتھا کہ دورہ امریکہ سے قبل وزیر اعظم عمران خان کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا پیغام موصول ہوا تھا کہ آپ امریکہ روانگی سے قبل سعودی عرب کا دورہ کریں۔وزیراعظم عمران خان سعودی عرب گئے ۔ اس دورے میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کو ایران سے کشیدگی نہ بڑھانے کی کہا
اور ساتھ ہی کچھ انٹیلی جنس معلومات شئیر کیں جن میں کچھ ایسے ناقابل تردید شواہد تھےکہ سعودی آئل ریفائنری میں ایران ملوث نہیں تھا اور کس طرح سے دو اسلامی ممالک کو آپس میں لڑوانے کی ایک خوفناک سازش کی گئی۔ اس پر سعودی ولی عہد نے ان معلومات پر ناقابل تردید اور قابل بھروسہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے ایران سعودی عرب تعلقات کو بہتر بنانے کےلئے اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست دی۔ دورہ امریکہ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وزیر اعظم عمران خان سے ایران امریکہ تعلقات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کےلئے ایک سہولت کار کا کردار ادا کرنے کو کہا ۔ اس کے بعد وزیر اعظم دورہ ایران پر گئے جہاں ایک بار پھر ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض ان کے ساتھ تھے۔ اس دوران ایرانی قیادت سے وہ انٹیلی جنس معلومات شئیر کی گئیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی تھیں کہ ایرانی آئل ٹینکر پر جو میزائل داغا گیا وہ سعودی عر ب نے نہیں داغا تھا بلکہ یہ اسلام دشمن قوتوں کی جنگ کروانے کی ایک سازش تھی۔اس پر ایرانی قیادت نے بھی وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے ا س بات کا عندیہ دیا کہ ایران یمن میں جاری جنگ اور تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنےکےلئے تیار ہے۔ ایرانی قیادت نے سعودی لیڈر شپ کے نام ایک پیغام بھی وزیر اعظم عمران خان کے ہاتھ بھجوایا۔ اس کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان رات گئے سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوئے جہاں انھوںنے سعودی کنگ سلمان اور سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کی قیادت سے ملاقات کرکے انھیں ایرانی لیڈر شپ کا پیغام پہنچایا۔ اس ساری صورتحال سے جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ دونوں ملک نہ صرف کشیدگی کے خاتمے کےلئے پاکستان سے کچھ اچھی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں بلکہ اس بات کے امکانات ہیں کہ پاکستان جلد ہی اسلام آباد میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی عہدیداروں کی میزبانی کرتے ہوئے مذاکرات کےلئے انھیں پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔صابر شاکر نے مزید انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بذات خود مسائل کے فوجی حل کی بجائے مذاکرات کے راستے کے قائل ہیں۔ اس معاملے پر امریکی اسٹیبلشمنٹ اور ٹرمپ کے مابین اختلافات بھی موجود ہیں کیونکہ امریکہ اسٹیبلشمنٹ جنگ اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر دنیا میں اپنی چودھراہٹ چاہتی ہے۔ لیکن ٹرمپ امریکہ کو تمام طرح کے تنازعات سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرکے نکالناچاہتے ہیںیہی وجہ ہے کہ خلیج میں امریکی فوج کی تعیناتی اور ایران پر حملے کے اعلان کے فوری بعد ٹرمپ نے اپنا حکم واپس لےلیا تھا۔

تازہ ترین خبریں