03:42 pm
سوشل میڈ یا پر پھیلنے والی تصویر کی حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈ یا پر پھیلنے والی تصویر کی حقیقت سامنے آگئی

03:42 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )دو قبروں کے درمیان کمبل لے کر سوئے ہوئے بچے کی تصویر سوشل میڈ یا پر وائرل ہو گئی جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہ شامی بچہ اپنے والدین کی قبروں کے درمیان لیٹا ہوا ہے ،تاہم اب اس کی حقیقت سامنے آگئی ہے ۔انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈ یا پر وائرل ہونے والی یہ تصویر سعودی عرب کی ہے ،سعودی فوٹوگرافر عبد العزیز العتیبی نے یہ تصویر 2014میں اپنے آرٹ پراجیکٹ کے لیے اتاری تھی ۔سوشل میڈ یا پر اس تصویر کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ شامی بچہ اپنے والدین کی قبر کے ساتھ لیٹا ہوا ہے تاہم نہ تو یہ بچہ یتیم ہے
اور نہ ہی پتھروں کا ڈھیر قبر یں ہیں بلکہ یہ ایک پراجیکٹ کے لیے اتاری گئی تصویر ہے ۔2014میں بھی یہ تصویر اسی دعوے کے ساتھ سوشل میڈ یا پر پھیلی تھی تب فوٹوگرافر نے بتا یا تھا کہ اس تصویر کا شام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ،میں اس تصویر میں دکھانا چاہتا تھا کہ بچے کا اپنے والدین سے پیار کتنا خوبصورت ہوتا ہے اور اس پیار کا کوئی بھی متبادل نہیں ہے ۔عبد العزیز العتیبی نے بتا یا کہ میں جدہ سے ڈھائی سو کلو میٹر دور گیا وہاں پتھروں کے ڈھیر سے دو قبریں بنائی ،پھر میں نے اپنے بھانجے کو ان قبروں کے درمیان لیٹنے کا کہا اور اسے کمبل اڑا دیا ،یقینا میں کسی بچے کو حقیقی قبروں کے درمیان نہیں لٹا سکتا تھا ۔