04:01 pm
ایم اے او کالج کے پروفیسر کی خودکشی سے قبل جان بوجھ کر کالج کے پرنسپل نے جنسی ہراسگی کے معاملے میں کلیئرنس کا خط جاری کیوں نہ کیا

ایم اے او کالج کے پروفیسر کی خودکشی سے قبل جان بوجھ کر کالج کے پرنسپل نے جنسی ہراسگی کے معاملے میں کلیئرنس کا خط جاری کیوں نہ کیا

04:01 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور کے ایم اے او کالج کے پروفیسر افضل محمود کی خود کُشی کا معاملہ پہلے پہل تو میڈیا کی عقابی نظروں سے غائب رہا مگر سوشل میڈیا نے اسے اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس خبر کو حتی الامکان کوریج دی جس کے بعد مقتدر طبقہ بھی خواب خرگوش سے جاگ اٹھا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹر کالجز لاہور کی شکایت پر ڈی پی آئی کالجز نے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کو مراسلہ جاری کر دیاجس میں کہا گیا کہ پرنسپل ایم اے او کالج ڈاکٹر فرحان عبادت یار خان کا محکمہ ہائر ایجوکیشن کے افسران کے ساتھ رویہ ہتک آمیز اور گالم گلوچ پر مبنی ہے، اُن کے رویئے کے باعث لاہور ڈویژن میں معاملات چلانے میں شدید دُشواری کا سامنا ہے۔ پرنسپل مسائل اور دفتری امور میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں
گالم گلوچ کرتے اور ہتک آمیز رویہ اپناتے ہیں۔ میڈیا کے مطابق اس مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پروفیسر افضل محمود کو جنسی ہراسگی کے معاملے میں کلیئرنس کا خط جاری نہ کرنا بھی پرنسپل کی غیر ذمہ داری کا ایک ثبوت ہے۔ اس لیے پرنسپل ایم اے او کالج کو عہدے کے لیے نااہل قرار دیا جائے ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اس مراسلے میں پرنسپل ڈاکٹر فرحان عبادت کو مستقبل میں کسی بھی انتظامی عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ دُوسری جانب پنجاب لیکچرار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالخالق ندیم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے بھی اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متوفی پروفیسر افضل محمود کے معاملے میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ واضح رہے کہ پروفیسر افضل محمود کی جانب سے خود کُشی 9 اکتوبر کو کی گئی تھی، مگر یہ معاملہ میڈیا کی نظروں سے بھی اوجھل رہا۔