04:03 pm
 آزادی مارچ کی متبادل قیادت پر شہباز شریف نے تحفظات کا اظہار کر دیا

آزادی مارچ کی متبادل قیادت پر شہباز شریف نے تحفظات کا اظہار کر دیا

04:03 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تم گرفتار ہوئے تو آزادی مارچ کی قیادت میں کروں گا، آزادی مارچ کی متبادل قیادت پر شہباز شریف نے تحفظات کا اظہار کر دیا ، بڑی جماعت غصے سے آگ بگولا ۔۔۔آزادی مارچ کی متبادل قیادت اے این پی کو دینے پر شہباز شریف کے تحفظات پر اے این پی سیخ پا ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق اے این پی نے مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کے آزادی مارچ کی متبادل قیادت سے متعلق تحفظات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسفندیار ولی نے پختون روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے
مولانا کو یہ پیشکش کی تھی کہ آپ گرفتار ہوتے ہیں تو میں مارچ کی قیادت خود کروں گا جسے مولانا نے شکریہ کے ساتھ تسلیم کرلیا تھا۔ اس پر اعتراض کے بجائے تمام سیاسی قائدین کو اس جرأتمندانہ اقدام پر اسفندیار ولی خان کا مشکور ہونا چاہئیے لیکن ہمیں شہباز شریف کے تحفظات سن کر حیرت ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ آزادی مارچ اور دھرنے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو پہلے سے ہی کئی تحفظات تھے۔ گذشتہ روز جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی ملاقات ہوئی۔اس ملاقات کی اندرونی کہانی بھی سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق شہباز شریف نے آزادی مارچ میں اپنی شرکت بلاول بھٹو زرداری کی شمولیت سے مشروط کر دی ۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ وہ اسی صورت میں آزادی مارچ میں شرکت کریں گے، اگر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اس میں بذاتِ خود شمولیت کریں گے۔ شہباز شریف نے مولانا سے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے۔پیپلز پارٹی اس آزادی مارچ اور جلسے میں جس سطح کا وفد بھیجے گی، مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی اسی سطح کا وفد بھیجا جائے گا۔ یہی نہیں شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان پر یہ بھی واضح کر دیا کہ بلاول بھٹو زرداری کی عدم شمولیت پر اُن کی بجائے احسن اقبال مسلم لیگن کی جانب سے ن لیگ کی قیادت کریں گے۔