01:38 pm
چیئرمین نیب کیخلاف ایک اور بڑاسکینڈل سامنے لانے کی تیاریاں

چیئرمین نیب کیخلاف ایک اور بڑاسکینڈل سامنے لانے کی تیاریاں

01:38 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی و تجزیہ کار صابر شاکر نے یوٹیوب پر ویڈیو پروگرام میں ملک کی موجودہ صورتحال اور کابینہ میں ہونے والی تبدیلیوں پر بات کی۔ تفصیلات کے مطابق اس ویڈیو میں صابر شاکر کا کہنا تھا کہ پہلے تو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا ویڈیو اسکینڈل سامنے لایا گیا تاہم اب ایک اور شخصیت کا مزید ایک اور اسکینڈل آنے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا اسکینڈل آنے والا ہے ۔
ہر انسان کی طرح سرکاری عہدوں پر فائز شخصیات کی بھی کوئی نہ کوئی کمزوری ضرور ہو تی ہے ۔ ابھی تک چئیرمین نیب کی کرپشن کے بارے میں ایسی کوئی چیز منظر عام پر نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ چئیرمین نیب کو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے مقرر کیا تھا اور یہ سوچ کر مقرر کیا تھا کہ وہ ان کے خلاف مقدمات میں لچک دکھائیں گے اور معاملات سنبھال لیں گے۔چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی خورشید شاہ اور اُس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مقرر کیا تھا۔ لیکن جب انہوں نے اپنا کام شروع کر دیا تو ان پر بھی چڑھائی کی جا رہی ہے۔ نیب کیسز کی وجہ سے مریم نواز کو سزا ہو گئی، سزائیں کالعدم ہونے پر نیب کی جانب سے عدالتوں میں اپیلیں دائر کی گئیں۔ حسن نواز ، حسین نواز اور اسحاق کے خلاف بھی نیب مقدمات ہیں۔نیب ان مفرور ملزمان کی عدم موجودگی میں جائیدادوں کی ضبطگی کا کام شروع کر رہا ہے۔ یہ سلسلہ ابھی مزید بڑھ رہا ہے۔ صابر شاکر نے کہا کہ بجائے اس کے کہ یہ لوگ اپنے معاملات ٹھیک کریں اب چئیرمین نیب کے خلاف اسکینڈل لایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل چئیرمین نیب کی ایک خاتون کے ساتھ ویڈیو آئی تھی، جس کو چئیرمین نیب کو بلیک میل کرنے کے لیے ٹکڑے جوڑ کر بنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان کو امید ہے ، یہ آس لگا کر بیٹھے ہیں کہ کوئی آ کر ان کی مدد کرے گا۔ انہیں یہ آس کس نے دلوائی ہے اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ صابر شاکر نے کہا کہ نواز شریف اور فضل الرحمان نے براہ راست رابطے سے آزادی مارچ اور دھرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز متحرک ہو گئے ہیں۔ نواز شریف کو حسین نواز کے نام لکھا گیا خط ا نہیں پہنچا دیا گیا ہے ، کیپٹن (ر) صفدر کے منہ سے بھی اس خط کا ذکر نکل گیا تھا، جس میں انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ پارٹی امور وہ چلائیں گے۔اس خط کا مسلم لیگ ن نے بالکل انکار کر دیا ہے کہ ایسے کسی خط کا کوئی وجود نہیں ہے لیکن اس خط کے بارے میں شہباز شریف کو بھی لاعلم رکھا گیا۔ دوسری جانب کابینہ کو لے کر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں شرمندہ ہو رہا ہوں۔ انہوں نے اپنے چند قریبی لوگوں سے کہا کہ مجھے جو ٹیم ملی ہے اس کی وجہ سے میں بہت شرمندہ ہوں۔ میری ٹیم کے لوگ آپس میں ہی ایک دوسرے کو گندہ کر رہے ہیں، سب لوگ ذاتی ایجنڈے پر لگے ہوئے ہیں ان کو کوئی فکر نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کس مقصد کے لیےاقتدار میں آئی تھی ، ان کو کوئی فکر نہیں کہ عوام نے تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کو مسترد کر کے کیوں پی ٹی آئی پر اعتماد کیا تھا۔صابر شاکر نے بتایا کہ اسی شرمندگی کے ہاتھوں مجبورہونے کی وجہ سے اب اسد عمر کو کابینہ میں مرکزی کردار ملنے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسد عمر کو وفاقی وزیر کے ساتھ ایک اور بڑا عہدہ بھی دیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں وزارتوں پر نظر رکھنے اور ان کی کارکردگی کی نگرانی کرنے کا کہا جائے جس کے بعد اسد عمر کچھ وزارتوں کی براہ راست نگرانی کرنے کی ذمہ داری بھی نبھانا شروع ہو جائیں۔