01:40 pm
آئی ایس آئی سیاست میں کیوں اور کس مقصد کے تحت آئی،پاک فوج کے سابق جنرل اعجاز اعوان نے اہم بات بتادی

آئی ایس آئی سیاست میں کیوں اور کس مقصد کے تحت آئی،پاک فوج کے سابق جنرل اعجاز اعوان نے اہم بات بتادی

01:40 pm

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئر تجزیہ کار جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ کی ابتداء ذوالفقار بھٹو نے کی، جب تک ذوالفقار علی بھٹو پہلے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرنہیں بنے تھے، اس وقت تک آئی ایس آئی کا سیاست میں کوئی کردار نہیں تھا، لیکن مقبول ترین لیڈر نے پہلی بارآئین میں آئی ایس آئی کو سیاست میں مداخلت کا رول دیا گیا۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا
کہ اپوزیشن کا ایجنڈا ہے کہ نئے انتخابات کروائیں اس میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔الیکشن کمیشن اور اس وقت کی منتخب حکومتوں نے فوج کو کہا تھا کہ آپ آئیں اور الیکشن میں نظم وضبط قائم کریں۔آج ایک شخص کہتا ہے کہ پورے ملک میں نئے انتخابات کروائے جائیں جو اپنی سیٹ ہار گیا تھا۔دوسری جماعت کی توسمجھ آتی ہے کیوں کہ ان کی لیڈرشپ جیلوں میں قید ہے۔22 کروڑ عوام دیکھ رہے ہیں کہ پھٹے ہوئے جوتوں میں الیکشن لڑنے والے آج گاڑی میں ہیں، ملک غریب اور سیاستدان امیر ہوگئے ہیں۔ ایک سیاستدان ایسا نہیں کہ منتخب ہونے کے بعد وہ غریب ہوگیا ہو؟انہوں نے کہا کہ آج محکموں میں کوئی میرٹ نہیں ہے۔ ایسے نظام کو جمہوریت نہیں کہتے جس میں لوگوں کو کہا جائے کہ ارکان اسمبلی کے دروازوں پرجائیں اور اپنا حق مانگیں۔مولانا صاحب مغربی نظام حکومت کے دلدادہ ہیں، یہی پارلیمانی نظام چلنا چاہیے، کیو نکہ اس میں آئندہ نسلوں کیلئے دولت بنانے اور کرپشن کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ لیکن آج تک اداروں میں کیوں اصلاحات نہیں کی گئیں، کیونکہ عدلیہ اور بیوروکریسی کی اصلاحات نہیں کی گئیں؟ نہرو نے تولینڈ ریفارمز پہلے چند سالوں میں ہی کردی تھیں۔ اس لیے کہ جو اقتدار پر قابض رہنا چاہتے ہیں ان کیلئے میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو، یہی طریقہ ہے کہ عوام کو محکوم بنا کررکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ جب تک ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں اقتدار نہیں لگا تھا اور وہ پہلے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرنہیں بنے تھے،اس وقت تک آئی ایس آئی کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہوتا تھا، اس وقت پہلی بارآئین میں آئی ایس آئی کو سیاست میں مداخلت کا رول دیا گیا۔آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ کی ابتداء ذوالفقار بھٹو نے کی،جو سب سے زیادہ مقبول لیڈر تھا،آئین کی چھتری میں ان اداروں کو سیاست میں لانے والے پاک صاف ہیں، جو حکم مانتے ہیں ان کا جرم بن جاتا ہے۔