05:05 pm
’’ خفیہ کیمروں کے ذریعے ہراسگی کا معاملہ‘‘  جاوید اقبال کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

’’ خفیہ کیمروں کے ذریعے ہراسگی کا معاملہ‘‘ جاوید اقبال کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

05:05 pm

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)’’ خفیہ کیمروں کے ذریعے ہراسگی کا معاملہ‘‘ جاوید اقبال کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔۔۔۔بلوچستان یونیورسٹی میں طلبہ کو خفیہ کیمروں کے زریعے ہراساں کرنے کا معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی ڈاکٹر جاوید اقبال کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق : بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں کے ذریعے سے طالبات کو ہراساں کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا جس کے بعد طالبات میں ایک غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی اور وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگیں۔اسی حوالے سے پچھلے دو ہفتوں سے تحقیقات جاری تھیں
۔بلوچستان یونیورسٹی میں طلبہ کو خفیہ کیمروں کے زریعے ہراساں کرنے کا معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی ڈاکٹر جاوید اقبال کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ڈاکٹر جاوید اقبال کو اس معاملے کی مکمل تحقیقات تک عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔اس حوالے سے ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جب تک ایف آئی اے کی تحقیقات مکمل نہیں ہوں گی اس وقت تک وائس چانسلر عہدے پر نہیں رہیں گے۔ان کی محمد انور پانیزئی کو قائم مقام وائس چانسلر تعینات کر دیا گیا ہے۔ایف آئی اے کے ادارے 27اکتوبر تک وزیر اعلیٰ بلوچستان اور گورنر بلوچستان کو تحقیقاتی رپورٹ پیش کریں گے۔جب کہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے 28اکتوبر کو بلوچستان ہائیکورٹ میں بھی اس سکینڈل پر رپورٹ پیش کی جائے گی۔خیال رہے کہ بلوچستان کی یونیورسٹی میں طلباء کو بلیک مل کرنے اور ہراساں کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔ایف آئی اے سائبر کرائم ٹیم نے گذشتہ ماہ سکینڈل بے نقاب کیا تھا جس میں یونیورسٹی کے طالب علموں کو ویڈیوز کے ذریعے سے بلیک میل کیا جاتا تھا۔ بلیک میلنگ کے لیے یونیورسٹی بلاکس میں خفیہ کیمرے لگائے گئے تھے۔ ذرائع ایف آئی اے کے مطابق اس سلسلے میں یونیورسٹی سیکیورٹی برانچ کے افسر اور سرویلنس انچارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی سرویلنس سیکشن اہلکاروں نے طلبا کو بلیک میل کیا۔گرفتار اہلکاروں سے ہراساں کرنے اور بلیک ملینگ کی ویڈیوز برآمد ہوئی تھیں۔ یونیورسٹی کے 200اہلکاروں ملازمین سے تفتیش جاری ہے۔ ایف آئی اے کی کاروائی کے بعد کئی متاثرہ لڑکیوں سے رجوع کیا۔ اس متعلق تفتیش کی جا رہی ہے کہ اسکینڈل میں یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیدار تو ملوث نہیں؟۔وائس چانسلر کے اسٹاف آفیسر سے بھی تفتیش کے دوران نازیبا مواد برآمد ہوا ہے۔ بلیک میل کیے گئے طلبا میں زیادہ تعداد طالبات کی ہے۔

تازہ ترین خبریں