12:32 pm
مولاناکے آزادی مارچ کیخلاف کریک ڈائون، حکومت کا موبائل فون سروس معطل کرنے کا فیصلہ

مولاناکے آزادی مارچ کیخلاف کریک ڈائون، حکومت کا موبائل فون سروس معطل کرنے کا فیصلہ

12:32 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اُنہیں نظر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔جب کہ ان کے سرگرم کارکنان کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔اس حوالے سے ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ایسے وقت میں یہ کریک ڈاؤن جے یو آئی ایف کے خلاف کثیر جہت ہو گا۔جے یو آئی ایف کی اعلیٰ قیادت نے اپنے منصوبے بند مارچ اور دھرنا پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کے پاس امن برقرار رکھنے کے لیے سوائے تمام وسائل،
اختیارات اور آپشنز استعمال کرنے کا کوئی آپشن رہ جاتا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جے یو آئی ایف کی قیادت اور سرگرم کارکنوں کے حراستی کریک ڈاؤن کے دوران حکمت عملی کے تحت مخصوص علاقوں خصوصاََ خیبرپختونخوا اور جزوی طور پر پنجاب میں موبائل فون سروس معطل کردی جائے گی۔وفاقی دارالحکومت میں فون سروس 30اکتوبر کو نصف شب کے بعد معطل کر دی جائے گی جو 31 اکتوبر کو رات گئے بحال کی جائے گی۔تاہم انتظامیہ صورتحال کے مطابق فیصلہ کرے گی۔دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے لیے مبینہ طور پر بھتہ وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں مولانا فضل الرحمان دھرنے کے لئے مبینہ طور پر بھتہ طلب کرنے کا انکشاف ہوا جس پر کراچی میں پولیس نے لانڈھی کے رہائشی شہری کاشف نظامی کی مدعیت میں جے یو آئی (ف) کے مقامی رہنما صابراشرفی، حنیف اور سلیم کے خلاف بھتہ وصولی کا مقدمہ درج کرایا ہے، مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تینوں ملزمان نے اسلام آباد میں دھرنے کے لئے 50 ہزار روپے کا تقاضا کیا اور نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواست گزار پی ٹی آئی کا کارکن ہے تاہم درخواست پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔