12:33 pm
حکومت اسمارٹ کارڈ کھیلنے لگی، ہرچیز کی ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنا شروع کردی

حکومت اسمارٹ کارڈ کھیلنے لگی، ہرچیز کی ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنا شروع کردی

12:33 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئےسینئرصحافی و تجزیہ کار ارشد شریف نے کہا کہ اگر آج ہم کسی سے حکومت کے بارے میں کچھ بھی پوچھیں تو لوگ یہی کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے اور اس طریقے سے سارے کا سارا الزام اُسی طرف یعنی اسٹیبلشمنٹ کی طرف جا رہا ہے۔ اس حوالے سے حکومت بہت اسمارٹ طریقے سے کھیل رہی ہے کہ ساری چیزیں اُدھر ڈالتے جائیں اور وہاں سے ٹھپے لگوا کر سرٹیفیکیٹ لیتے جائیں۔ارشد شریف نے کہا کہ وہاں بھی ایک فین کلب بیٹھا ہوا ہے جو ابھی تک 1992ء کے سحر سے نہیں نکلا۔ انہوں نے کہا کہ آگے چل کر بہت سے اداروں پر بھی سوالات اُٹھنا شروع ہو گئے ہیں جو کہ آئندہ چل کر سیاسی جماعتوں کی جانب سے نظر بھی آرہے ہیں۔ابھی بھی کئی جماعتیں اداروں پر سوالات اُٹھا رہی ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ مشرف کے دور میں حالات ایسے آگئے تھے
کہ آپ یونیفارم پہن کر باہر نہیں نکل سکتے تھے۔یہ ایک چیز بڑی سنجیدگی سے ڈیویلپ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہانیاں کبھی مرتی نہیں ہیں ۔ آج جو لوگ کچھ معاملات سے لاتعلق ہیں کل اُنہی کا تعلق ہو گا اور جن کا آج کوئی تعلق ہے اُن کا کل نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کا کیس ہی دیکھ لیں کہ اُس میں کیا ہے ۔ اب جب کوئی ان سے سوال کرتا ہے تو اُلٹا اُسی پر الزام تراشی شروع کر دی جاتی ہے۔ارشد شریف نے کہا کہ رانا ثناء اللہ سے ہمارے لاکھ سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں ۔ ہم نے اُن پر کافی اسٹوریز کی ہیں۔ لیکن اگر آپ اس کے حوالے سے کوئی ثبوت یا شواہد پیش نہیں کر سکتے تو پھر تو صاف اور واضح ہے کہ ڈی جی اے این ایف آرمی کا یونیفارم پہن کر ایک وزیر کے ساتھ بیٹھا ہے تو کیا یہ نہیں لگ رہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت اپنے سیاسی حریفوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے ؟