10:30 am
بہاولپور میں نویں جماعت کی طالبہ کو آئس نشے کی لت لگا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا

بہاولپور میں نویں جماعت کی طالبہ کو آئس نشے کی لت لگا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا

10:30 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی سکول کالجز اور مختلف تعلیمی اداروں میں مختلف منشیات کا استعمال عام ہو تا جا رہا ہے ۔ خاص طور پر آئس نشہ تو اس قدر عام ہو چکا ہے کہ پاکستان کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی اس کی لت لگنے کی خبریں عام ہونے لگی ہیں ۔ تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق بہاولپور میں ایک طالبہ کو نشے کا عادی بنا کر اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بہاولپور کے علاقہ ضیاء الدین کالونی کی نویں جماعت کی طالبہ ٹیوشن کے لیے ماڈل ٹاؤن سی میں واقع کوچنگ اکیڈمی جاتی تھی جہاں اُسے آئس ہیروئن کے نشے کا عادی بنا کر کئی دنوں تک اُس کے ساتھ اجتماعی کی جاتی رہی۔ واقعہ سامنے آنے پر پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا لیکن پولیس تاحال ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں لا سکی۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی درخواست پر اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کیا۔ مقدمہ میں ڈاکٹر زوہیب، لیڈی ڈاکٹر ثانیہ، مسمات ردا ندا، سردار عمیر، ساجن اور حماد پر مشتمل گینگ کے چھ ارکان کو نامزد کیا گیا جبکہ ایک ملزم عبوری ضمانت حاصل کرنے کے بعد شامل تفتیش ہوگیا ہے۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ ملزمان روپوش ہیں جن کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور بہت جلد تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ پولیس کے مطابق 16 اکتوبر کو لڑکی کو آئس نشہ کے بہانے گھر سے بلوا کر اغواء کیا گیا تھا اور دو دن تک اُسے مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ واضح رہے کہ تعلیمی اداروں میں آئس نشے کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں نوجوان آئس نشے میں مبتلا ہیں۔ حال ہی میں وفاقی دارالحکومت کے پوش سیکٹرز میں لڑکیوں کو محبت اور آئس نشے کا عادی بنا کر ان سے جسم فروشی کروائے جانے کا انکشاف بھی ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ایک بہت ہی منظم ، با اثر اور خطرناک جسم فروش مافیا کا بھی انکشاف ہوا تھا جو جواں سال لڑکیوں کو مختلف شہروں میں ملازمتوں کا جھانسہ دے کر اسلام آباد منتقل کرتا اور محبت کا جھانسہ دے کر آئس نشے پر لگاتا ہے۔