03:25 pm
حکومت سے تحفظات کا اظہار، دیگر آپشنز پر غور شروع کردیا

حکومت سے تحفظات کا اظہار، دیگر آپشنز پر غور شروع کردیا

03:25 pm

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اب تک یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کی عام پبلک بجلی کے بلز سے پریشان ہے۔اور ہم نے دیکھا ہے کہ کئی بار بجلی کی قیمتوں میں یہ کہہ کر کہ کاسٹ آف پروڈکشن بڑھ رہی ہے اس لیے اضافہ کیا گیا ہے۔اب تک تو پاکستانی عوام رو رہی تھی،کاروبار شخصیات بھی آرمی چیف اور وزیراعظم سے ملے جہاں اُنہوں نے بجلی مہنگی ہونے کی شکایت کی۔لیکن وزیر دفاع منگل کے روز کابینہ میں ایک سمری لے کر جائیں گے جس میں یہ انکشاف کیا جائے گا کہ پاکستان آرمی نے باقاعدہ طور پر حکومت پاکستان کو یہ بتایا ہے کہ بجلی کی قیمتیں بڑھنے سے ہمارے لیے بہت بڑے مسائل پیدا ہو گئے ہیں
۔رؤف کلاسرا نے کہا کہ پاک فوج نے بھی بجلی کی بڑھتی قیمتوں پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔کیونکہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کرنے کے لیے پاک فوج کو بھی اپنے بجٹ سے بڑا حصہ نکالنا پڑ رہا ہے۔کیونکہ پاک فوج نے پہلے ہی اپنا بجٹ نہیں بڑھایا تھا اس لیے بجلی کی بڑھتی قیمتوں پر انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پاک آرمی کا موقف ہے کہ بجلی کے ریٹس بڑھنے سے ہمارے اوپر بوجھ بڑھ گیا ہے،ہمارے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔رؤف کلاسرا نے مزید بتایا کہ اس وقت آرمی کا بجلی کا بجٹ 240میگا واٹ بن رہا ہے،جس کا سالانہ بل 15بلین روپے بنتا ہے۔جب کہ 2009 میں پاک فوج سالانہ 3 بلین ادا کر رہی تھی۔2018ء میں پاک فوج کو 13 بلین روپے بجلی کے بلوں کی مد میں ادا کرنے پڑے اور اب چونکہ بجلی کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں لہذا انہیں 15بلین روپے ادا کرنا پڑیں گے۔پاک فوج کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتیوں میں اضافے سے جتنے عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں اتنے ہم بھی متاثر ہو رہے ہیں۔پاک فوج نے حکومت سے کہا ہے کہ ہم پبلک پوائنٹ ٹرانسفر یا بی او پی (پبلک آپریٹ ٹرانسفر) کے تحت پرائیویٹ پارٹی کے ساتھ جوائنٹ ایڈونچر کرنا چاپتے ہیں جو ہمیں سولر سسٹم لگا کر دیں گے۔جس سے بجلی کا 20 سے 30فیصد بل کم ہو جائے گا،اس منصوبے کے لیے 87 ایکڑ زمین چاہئیے ہو گی،اس معاہدے کی منظوری حکومت سے مانگی گئی جو کہ آج کابینہ میں پیش کی جائے گی۔