03:31 pm
اگر میں عمران خان کیساتھ ہوتی تو نہ انہیں کٹھ پتلی بننے دیتی اور نہ ہی خود کٹھ پتلی بن کر رہتی

اگر میں عمران خان کیساتھ ہوتی تو نہ انہیں کٹھ پتلی بننے دیتی اور نہ ہی خود کٹھ پتلی بن کر رہتی

03:31 pm

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان اکثر ہی موجودہ حکومتی جماعت اور اپنے سابق شوہر عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان نے کہا کہ اگر میں عمران خان کے ساتھ ہوتی تو نہ تو انہیں کٹھ پتلی بننے دیتی اور نہ ہی خود کٹھ پتلی بن کر رہتی ۔یحام خان نے 
یہ ٹویٹ ایک صارف کے ٹویٹر پیغام کے جواب میں کیا جس کا کہنا تھا کہ اگر ریحام خان عمران خان کے ساتھ ہوتیں تو آج حکومت کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان موجودہ حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرنے کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔وزیراعظم عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان نے ٹویٹر کے بعد اب بھارتی ٹی وی چینل پر بھی وزیراعظم عمران خان کے بارے میں زہر اُگلا۔ اور کہا تھا کہ میرے خیال میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور عمران خان (اگر آپ اُن کو تھوڑا کریڈٹ دینا چاہیں)، تو یہ دونوں چین کو منانے گئے ہیں۔ چین ہم سے بہت زیادہ ناخوش ہے۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ اگر آپ سے کوئی ڈیل کرتا ہے اور اُس بزنس ڈیل سے جب آپ پیچھے ہٹیں گے تو آپ کو پہلے سوچنا چاہئیے تھا کہ آپ سی پیک پرکتنی سرمایہ کاری لے رہے ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی ان کے مخالفین نے کئی مواقع پر پراپیگنڈہ کیا اور یہ تاثر دیا کہ متقدر حلقے عمران خان کو بطور وزیراعظم لے لر آئے اس لیے عمران خان الیکٹڈ نہیں بلکہ سیلیکٹڈ ہیں جنہیں ووٹوں کے ذریعے منتخب ہونا تھا لیکن اُن کا انتخاب کسی اور طریقے سے کر لیا گیا اور انہیں ملک کی وزارت عظمیٰ سونپ دی گئی۔عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کئی موقعوں پر خود کو گذشتہ ادوار حکومت کے حکمرانوں سے الگ اور منفرد ثابت کیا لیکن عمران خان کے مخالفین نے ان کے خلاف نہ صرف پراپیگنڈہ کیا بلکہ ان پر خوب تنقید بھی کی۔