03:32 pm
پاکستان کی 25 بڑی مذہبی تنظیموں نے آزادی مارچ کی مخالفت کردی

پاکستان کی 25 بڑی مذہبی تنظیموں نے آزادی مارچ کی مخالفت کردی

03:32 pm

لاہور (نیوز ڈیسک)نظیمات اہل سنت پاکستان نے آزادی مارچ کو ملکی سلامتی کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کردی۔علماء نے پریس کانفرنس کے دوران 25 اہل سنت جماعتوں اور ان کے مدارس اور مساجد نے آزادی مارچ سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔علماء کا کہنا تھا کہ 27 اکتوبر کو پاکستان بنانے والے علماء مشائخ کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے۔اہلسنت پاکستان کے علماء کرام نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہے۔ اہلسنت پاکستان کا اتحاد 25 تنظیموں پر مشتمل ہے، صاحبزادہ حامد رضانے کہا کہ مدارس سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک اندرونی اور بیرونی مسائل سے دوچار ہے ، کشمیر کا ایشو سے بڑا مسئلہ ہے۔27 اکتوبر کو کشمیریوں بھائیوں ے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے۔اہل سنت علماء کا مؤقف ہے
کہ پاکستان کی داخلی اور خارجی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور اس وجہ سے آزادی مارچ کی گنجائش نہیں۔اس موقع پر صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ 26 اکتوبر کو کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ’استحکام پاکستان‘ کا اعلان کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نازک مرحلے پر مارچ سے انتشار اور فرقہ واریت پھیلے گی۔انہوں نے کہا کہ مدارس اہل سنت سیاسی مقاصد کےلئے استعمال نہیں ہوں گے اور قطعاً آزادی مارچ کا حصہ نہیں ہوں گے۔صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا مدارس ریفارمز پر تحفظات دور کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔صاحبزادہ حامد رضا کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی میاں جلیل احمد شرقپوری اور پیر معصوم نقوی سمیت اہل سنت کی 25 جماعتوں کے علماء پریس کانفرنس میں شامل تھے۔