05:04 pm
مذاکرات اور دھمکیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں ، فضل الرحمان

مذاکرات اور دھمکیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں ، فضل الرحمان

05:04 pm

اسلام آباد(این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کیخلاف آزادی مارچ پروگرام کے مطابق 27اکتوبر سے شروع ہوگا اور 31اکتوبر کو شرکاء اسلام آباد میں داخل ہونگے،یہ دھرنا اور اسلام آباد کا لاک ڈاؤن نہیں، ہم پی ٹی آئی کی طرح 126دن کے دھرنے والی پالیسی کی پیروی نہیں کرینگے،مارچ مکمل طورپر پر امن ہوگا اور ہم کسی سے بھی تصادم یا ٹکر کا ارادہ نہیں رکھتے،ہم حکمت عملی کے کچھ حصوں کو مبہم رکھنا چاہتے ہیں، حکمت عملی خود بنائینگے،اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا اتفاق ہے کہ موجودہ حکومت کو جاناچاہیےاور ہمارے آزادی مارچ کی حمایت کی ہے
،حکومت سے کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اگر ڈیل کر نا تھی تو اب تک کر چکے ہوتے، مجھے گرفتارکیا گیا تو عوام خود تحریک کی قیادت کرینگے۔ منگل کو غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ گرفتاری ان کیلئے کوئی نئی چیز نہیں ہے کیونکہ ماضی میں بھی جتنی تحریکیں چلی ہیں تو قیادت گرفتار ہوئی ہے لیکن تحریکیں متاثر نہیں ہوئی تھیں۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم گرفتار ہوتے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑیگا،عوام خود تحریک کی قیادت کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا ٹارگٹ پندرہ لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانا ہے اور اگر پانچ لاکھ گرفتار بھی ہوتے ہیں تو دس لاکھ ضرور اسلام آباد آئینگے۔حکومت نہ صرف اندرونی معاملات میں ناکام ہوگئی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ناکام ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان آج دنیا میں اکیلا کھڑا ہے اور ہماری قریبی دوست بھی ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔مذاکراتی ٹیم کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہاکہ ایک جانب حکومت نے مذاکرات کیلئے ٹیم بنائی ہے جبکہ دوسری طرف وزیراعظم اور حکومتی وزراء گالیاں اور تضحیک پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے پریس کانفرنس میں دھمکیاں دیں، دھمکیاں اور مذاکرات اکٹھے نہیں چل سکتے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہر طبقہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے پریشان ہے،معیشت کی بری حالت ہے،علاج کی سہولتیں موجودہ حکومت نے ختم کر دی ہیں،تاجر پریشان دکھائی د ے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آزادی مارچ کوئی ماورائے آئین اقدام نہیں ہے،یہ حکومت دھاندلی کی پیداوار اور نامزد لوگوں پر مشتمل ہے اسی لئے ان کو مزید اقتدار میں رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔انہوں نے کہاکہ تمام جماعتیں دھاندلی کے خلاف احتجاج پر متفق ہیں