04:54 pm
حریم شاہ کی دفتر خارجہ تک کیسے پہنچی، نعیم الحق نے کیا کردار اداکیا،جانئے تفصیلات

حریم شاہ کی دفتر خارجہ تک کیسے پہنچی، نعیم الحق نے کیا کردار اداکیا،جانئے تفصیلات

04:54 pm

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کی اعلیٰ سرکاری دفتر میں گھومنے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر دیا ،حریم شاہ نے دفتر میں گھومنے والی ویڈیو کے اوپر ایک گانالگا کر اُسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا ، جس کو دیکھتے ہی حکومتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی
 ۔ویڈیو میں حیران کن طورپر وہ ہمیشہ کی طرح اکیلی نہیں تھیں بلکہ ان کی ویڈیو کوئی بنا رہا تھا ،حریم شاہ نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اجلاس میں صدارت کرنے والی کرسی پر بھی انجوائے کیا،انہوں نے کانفرنس روم بھی دکھائے جہاں ملک کے اہم اور نازک ترین مسائل پر گفتگو ہوتی ہے ۔ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو وزیراعظم ہاؤس نے اس کا نوٹس لے لیا جس پر دفتر خارجہ کے افسران میں کھلبلی مچ گئی اور تحقیقات شروع ہو گئیں کہ خاتون کو اتنی اہم وزارت کے دفتر کے میٹنگ روم تک رسائی کیسے حاصل ہوئی۔ویڈیودیکھنے کے بعد مخالف حلقوں کے علاوہ خود پاکستان تحریک انصاف کے سپورٹرزمیں بھی تشویش کی لہر دوڑگئی  (جوویڈیو کے اصل مقام سے لاعلم تھے ) کہ حریم شاہ وزیراعظم آفس ہاؤس تک پہنچیں کیسے؟  سوشل میڈیا صارفین نے اس حوالے سے ٹویٹس میں اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے علاوہ وزیراعظم عمران خان سے بھی جواب طلب کیا۔اس آسان رسائی اوراتنی اہم جگہ پر ویڈیو بنانے کا ذریعہ کون بنا؟ کیونکہ دفترخارجہ تک عام افراد کی رسائی قطعا ممکن نہیں جب تک کہ اندر کا کوئی شخص اپنے مہمان کی انٹری نہ کرائے ، حتیٰ کہ آئے روز وہاں کوریج کیلئے جانے والے میڈیا نمائندوں کی بھی فہرستیں بنتی ہیں اورسخت چیکنگ کے بعد داخلہ ممکن ہوتاہے۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس معاملے میں وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی اور ان کے معاون نعیم الحق کا ہاتھ ہونے کا شُبہ ظاہر کیا ہے ، صارفین کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ اس سارے معاملے میں نعیم الحق کا ہاتھ ہو سکتا ہے البتہ باقاعدہ تحقیقات ہونے تک ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ واضح رہے کہ ٹک ٹاک ماڈل حریم شاہ نے وزارت خارجہ کے دفتر میں بیٹھ کر ٹک ٹاک ویڈیوز بنائیں اور اپ لوڈ کر دیں جس کے بعد میڈیا پر حریم شاہ کو رسائی دینے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ سوشل میڈیا پر تنقید ہونے کے بعد ہی وزیراعظم آفس نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔