06:08 pm
ہم فضل الرحمن کا مزید ساتھ نہیں دے سکتے، مولانا کے دھرنے میں مدد دینے کا اعلان کرنیوالی سب سے بڑی جماعت کس موقع پر ساتھ چھوڑدے گی، جانئے

ہم فضل الرحمن کا مزید ساتھ نہیں دے سکتے، مولانا کے دھرنے میں مدد دینے کا اعلان کرنیوالی سب سے بڑی جماعت کس موقع پر ساتھ چھوڑدے گی، جانئے

06:08 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی نے انکشاف کیا ہے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالے سے اپوزیشن ا بھی ایک پیج پر نہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ مولانا کو رہبر کمیٹی کا اجلاس دھرنے کا اعلان کرنے سے پہلے بلانا چاہئیے تھا
۔پیپلز پارٹی، لیگ اور اے این پی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن خفیہ طور پر حکومت سے رابطے کر رہی ہے اور اپنے معالات طےکر رہی ہے،ایسے میں رہبر کمیٹی کا اجلاس بلانے کا کیا فائدہ ہے؟۔جس پر جمیعت علمائے اسلام ف کے رہنما اکرم درانی نے دیگر جماعتوں کو اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ آئندہ جو بھی معاملہ ہو گا اس سے آپکو آگاہ رکھا جائے گا۔پیپلز پارٹی نے سب سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ جب حکومت گرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو مذاکرات کی بات کیوں ہو رہی ہے۔رانا عظیم نے مزید کہا کہ اگلے دو سے تین روز سے میں پیپلز پارٹی آپ کو مولانا سے علیحدہ ہوتی نظر آئے گی۔جب کہ اگلے دو سے تین روز میں ہی مسلم لیگ ن کے اندر ایک بڑا گروپ ہے جو اپنے آپ کو دھرنے سے بلکل الگ کر دے گا۔جب کہ مسلم لیگ ن نے رہبر کمیٹی میں یہ بھی کہا کہ یہ تو فیصلہ ہم نے ابھی کیا ہی نہیں کہ آپکے دھرنے میں شامل ہونا ہے یا نہیں۔راناعظیم نے کہا ہے کہ جب مارچ شروع ہو گا توآپکو لوگ آہستہ آہستہ مولانا سے الگ ہوتے نظر آئیں گے۔واضح رہے کہ ملک بھر کی 25 مذہبی تنظیموں نے آزادی مارچ کی مخالفت کر چکے ہیں۔اہلسنت پاکستان کے علماء کرام نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہے۔ اہلسنت پاکستان کا اتحاد 25 تنظیموں پر مشتمل ہے، صاحبزادہ حامد رضانے کہا کہ مدارس سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک اندرونی اور بیرونی مسائل سے دوچار ہے ، کشمیر کا ایشو سے بڑا مسئلہ ہے۔ 27 اکتوبر کو کشمیریوں بھائیوں ے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجود صورتحال میں حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے والی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے۔