06:09 pm
کفن میں جیب نہیں ہوتی، یہاں سے سب خالی ہاتھ جائینگے، ہم نے صرف ڈھیل دی ہے، ڈیل نہیں کی، چیئرمین نیب کا کرپٹ عناصرکیخلاف دوٹوک اعلان

کفن میں جیب نہیں ہوتی، یہاں سے سب خالی ہاتھ جائینگے، ہم نے صرف ڈھیل دی ہے، ڈیل نہیں کی، چیئرمین نیب کا کرپٹ عناصرکیخلاف دوٹوک اعلان

06:09 pm

کراچی(نیوز ڈیسک) چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ نیب کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ ہو اسے عبور کریں گے اور وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کرپشن فری ہوجائے گا۔چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ نیب کا سیاست سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی حکومت سے کسی قسم کا کوئی سروکار، حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں تاہم نیب بھی ریاستی ادارہ ہے اس لیے اپیل کے لیے سپریم کورٹ رولزمیں ترمیم ہونی چاہیے
، الزام برائے الزام نہیں لگنا چاہیے، ہم کوئی سیاسی انتقام نہیں لے رہے ہیں، جہاں زیادہ وسائل تھے وہاں بے دردی سے لوٹا گیا، جہاں وسائل کم تھے وہاں بھی لوٹ مار کی گئی۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ جنگل میں منگل کے دن گزر گئے، ماضی میں جن سے سوال کرنا مشکل تھا وہ آج قانون کی گرفت میں ہیں، چند ماہ میں 4 ارب سے زائد کی ریکوری صرف سندھ سے کی گئی جب کہ نیب کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ ہو اسے عبور کریں گے، بلڈرز مافیا اور ہاؤسنگ سوسائٹی کو ڈھیل دی ہے ڈیل نہیں کی، عوام کی بربادی کا سبب بننے والی مافیا کا اب اختتام ہے۔جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کا مقصد صرف اور صرف پاکستان اور عوام کی خدمت کرنا ہے اور کرپشن کے خاتمے کیلئے عوام کے تعاون کی ضرورت ہے، احتساب سب کے لیے پر یقین رکھتے ہیں، یہ سوچ کر کرپشن نہ کریں کہ کسی کو کچھ علم نہیں، کسی افسر کے خلاف شواہد ہیں تو اس کے خلاف ایکشن ہوگا۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ کفن میں جیب نہیں ہوتی ہم جب یہاں سے جائیں گے تو خالی ہاتھ جائیں گے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ کسی کے لیے کوئی رعایت نہیں غریب کی لوٹی ہوئی رقم نیب نے واپس کروانی ہے، اس میں خواہ کوئی رکاوٹ ہو ہم نے اسے عبور کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر جو بھی الزام لگایا جائے گا اس پر میں کچھ نہیں کہتا لیکن نیب پر کوئی انگلی اٹھے گی یا الزام لگے گا تو ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے میرے فرائض میں شامل ہے میں اپنے ادارے کا مکمل دفاع کروں گا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ ماضی میں جن لوگوں کی جانب دیکھنا بھی ممکن نہیں تھا، یہ تصور نہیں کیا جاسکتا تھا کہ ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیا کیا؟ آج وہ نیب کی گرفت میں ہیں اور اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں۔