01:59 pm
آرمی چیف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ملاقات کی خبروں کا مقصد کیا تھا؟

آرمی چیف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ملاقات کی خبروں کا مقصد کیا تھا؟

01:59 pm

اسلام آباد : گذشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مولانا فضل الرحمن کے مابین ملاقات کا انکشاف ہوا تھا۔یہ دعویٰ ایک سینئیر صحافی صابر شاکر کی طرف سے کیا گیا۔صابر شاکر نے آرمی چیف اور مولانا کے درمیان ہونے والی گفتگو سے متعلق بھی بتایا۔اسی حوالے تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئیر صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ اخبار نویسوں کی طرف سے ایسی خبریں سنسنی پھیلانے کے لیے کی جاتی ہیں جس کا کوئی علاج نہیں۔
 
انہوں نے مزید کہاکہ ساری سیاسی پارٹیاں فوج کے ساتھ رابطے میں رہتی ہیں،پاک فوج ایک قومی ادارہ ہے اور بعض اوقات اس کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ہارون الرشید نے اس ملاقات کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ بہت پہلے کی ایک ملاقات ہے۔جب میں نے اس متعلق ایک متعلقہ افسر سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کیا مذکورہ صحافی اس ملاقات میں موجو دتھے ؟ کیا انہیں اس ملاقات کی تفصیلات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا؟۔ہارون الرشید نے کہا کہ اس وقت آرمی چیف اور مولانا فضل الرحمن کی ملاقات کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔اگر وہ انہیں روکتے ہیں تو بھی نا مناسب بات ہے اگر حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو یہ بھی غیر مناسب ہے۔سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہنا چاہئیے۔خیال رہے اس سے قبل معروف صحافی و تجزیہ کار طلعت حُسین کی جانب سے اپنے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کی آرمی چیف جنرل باجوہ سے ملاقات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔انہوں نے یہ دعویٰ مولانا فضل الرحمن کی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ذرائع کے حوالے سے کیا ۔ طلعت حُسین نے اپنے ٹویٹ میں جے یو آئی ف کے ذرائع سے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے آرمی چیف سے ملاقات میں اپنا موقف بلاخوف پیش کیا۔ طلعت حُسین نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے ”مولانا فضل الرحمان کی جنرل باجوہ سے ملاقات حالیہ نہیں، پُرانی ہے، جے یوآئی ذرائع کا بیان۔ ملاقات کا احوال اخباری رپورٹس سے ملتا جلتا ہے مگر یہ رپروٹس یکطرفہ ہیں۔ مولانا نے جنرل باجوہ سے ملاقات میں اپنا موقف بلا خوف پیش کیا۔ اب جو ھو گا دیکھا جائے گا، ذرائع“۔

تازہ ترین خبریں