02:39 pm
وزیراعظم کے امریکہ والے بیان کے بعد نواز شریف پر مزید سختی کی گئی

وزیراعظم کے امریکہ والے بیان کے بعد نواز شریف پر مزید سختی کی گئی

02:39 pm

لاہور (نیوز ڈیسک)معروف صحافی سلیم صافی کا اپنے حالیہ کالم میں کہنا ہے کہ نواز شریف کے بارے میں ان کے ماضی کی وجہ سے رائے یہ بنی تھی کہ چند دن جیل میں رہنے کے بعد وہ منتیں شروع کر دیں گے لیکن اب کی بار ان کی شخصیت میں جو تبدیلی آئی وہ ناقابلِ یقین ہے۔ایک روایتی مشرقی فیملی مین کے لیے اپنی اہلیہ اور ایک بیٹی کے لیے ماں کو لندن میں بستر مرگ پر چھوڑ کر گرفتاری دینے کے لیے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا لیکن میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف نے ایسا کر کے سب کو حیران کر دیا۔میاں شہباز شریف کے کہنے پر دونوں نے بیگم کلثوم کی وفات کے بعد چھ سات ماہ تک خاموشی اختیار کر لی لیکن پگھل جانے کی بجائے
شوہر کے لیے بیوی اور بیٹی کے لیے اپنی ماں کی اس بے بسی کی حالت میں رخصتی کا معاملہ زندگی بھر کا روگ بن گیا۔اس وجہ سے باپ اور بیٹی مزید سخت ہو گئے،سلیم صافی مزید لکھتے ہیں کہ مریم نواز شریف اور نواز شریف بہادری کے ساتھ جیل برداشت کرنے لگے تاہم ان کے ذاتی معالی با بار ان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے رہے۔تاہم حکمران مذاق اڑاتے رہے۔امریکا میں وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد کہ وہ واپس جا کر نواز شریف کا اے سی اور ٹی وی ہٹوا دیں گے،جیل حکام نے مزید سختی شروع کر دی،چنانچہ میاں صاحب کی صحت تیزی کے ساتھ بگڑنے لگی اور انہیں پلیٹ لٹس کی کمی کا مرض لاحق ہو گیا۔ڈاکٹروں نے انہیں سروسز اسپتال منتقل کیا لیکن پھر حکمرانوں کو حالات کی سنگینی کا احساس نہیں ہوا۔اس دوران بھی وزیر اور مشیر میاں صاحب کی صحت کا مذاق اڑاتے رہے۔وزیراعظم عمران خان یہ سوچتے رہے کہ شاید پنجاب کے ڈاکٹر شریف بردارن کے زیرِ اثر ہیں اور وہ معاملے کو بڑھا کر چڑھا کر پیش کر رہے ہیں چنانچہ تصدیق کے لیے شوکت خانم کے ڈاکٹروں کو بھیجا گیا۔ہر طرف سے تصدیق ہوئی اور نواز شریف کی حالت تشویشناک ہو گئی،بلکہ اگر وہ جیل میں چوبیس گھنٹے اور رہ جاتے تو خاکم بدہن کوئی بڑا سانحہ ہو سکتا تھا تو پشتی بانوں کے اوسان خط ہونے لگے۔