07:04 am
لگتا ہے راولپنڈی میں کچھ برف پگھلی ہے، امتیاز عالم

لگتا ہے راولپنڈی میں کچھ برف پگھلی ہے، امتیاز عالم

07:04 am

لاہور: سینئر تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ لگتا ہے راولپنڈی میں کچھ برف پگھلی ہے، چودھری شجاعت جن کا کھیل کھیلتے ہیں ، انہی کیلئے مولانا فضل الرحمان سے ملنے جا رہے ہیں، چودھری شجاعت کا درمیان کُودنے کا مطلب راولپنڈی میں برف پگھلی ہے۔انہو ں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں چودھری شجاعت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان رابطے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چودھری شجاعت جن کا کھیل کھیلتے ہیں ، انہی کیلئے مولانا فضل الرحمان سے ملنے اسلام آباد جا رہے ہیں۔
 
لگتا ہے راولپنڈی میں کچھ برف پگھلی ہے۔ اسی لیے اب چودھری شجاعت درمیان کُودے ہیں۔امتیاز عالم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان تو بات اشاروں میں کر رہے تھے لیکن پھرترجمان نے بات کھول دی، کہ بھئی معاملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھگڑا ہی یہ ہے کہ ملک میں اداروں کا کردار کیا ہے؟ آئین کی ذمہ داری کیا ہے؟آئین سے وفاداری ہے یا نہیں ہے، آئینی حدود میں آپ رہ رہے ہیں یا نہیں؟ جب آپ آئین کی حدود میں نہیں رہیں گے تو پھربحران پیدا ہوگا۔میڈیا نے آزادی لے کر کیا کیا ہے؟ ہم سترسال سے آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں۔ میڈیا جمہوری حکومتوں کو غیرمستحکم کرکے اب خود اپنے ہاتھ کٹوا لیے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا لگتا پھر وقت دیں گے، ویسے ساری جماعتیں مولانا کے ساتھ ہیں۔126دن کے جلسے سے حکومت نہیں گئی تھی لیکن غیرسیاسی قوتوں کے ہاتھ مضبوط ہوگئے تھے۔ اب اس دھرنے سے یہ بھی ہل رہے ہیں۔واضح رہے مسلم لیگ ق کے سربراہ وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ جس میں معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کی درخواست کی گئی۔ ذرائع جے یوآئی ف سے معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے چودھری شجاعت سے ملاقات کی حامی بھر لی۔ چودھری شجاعت حسین کل اسلام آباد جائیں گے۔ اسی طرح چودھری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں آپ نے میلہ لوٹ لیا ہے۔شہبازشریف کا دھرنے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ شہبازشریف کی حیثیت ”جمعہ جنج نال“ والی ہے۔ شہبازشریف حادثاتی اور آپ واقعاتی طور پر اپوزیشن لیڈر بن گئے ہیں۔ اب اصل اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمان ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ مولانا نے دونوں بڑی جماعتوں کو اپنے پیچھے لگا لیا ہے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے آپ کو اپنا لیڈرتسلیم کرلیا۔چودھری شجاعت نے کہا کہ آپ کی بات سے فوج کیخلاف جو تاثر گیا ، وہ غلط ہے۔آپ اس تاثر کو مٹانے کی کوشش کریں۔ چودھری شجاعت نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو معاملات افہام وتفہیم سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔آپ مفاہمت سے معاملات حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ ایسے باپ کے بیٹے ہیں جو سیاسی شعور رکھتے تھے اور معاملات کو مفاہمت سے حل کرتے تھے۔ مفتی محمود ملکی مفاد کی خاطر افہام وتفہیم سے معاملات حل کرنے پر یقین رکھتے تھے۔

تازہ ترین خبریں