09:06 am
منتوں کے باوجود باہر جانے کیلئے رضامند نہ ہونےو الے نواز شریف کس کے حکم پر بیرون ملک جا رہے ہیں ، جانیں

منتوں کے باوجود باہر جانے کیلئے رضامند نہ ہونےو الے نواز شریف کس کے حکم پر بیرون ملک جا رہے ہیں ، جانیں

09:06 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں ان دنوں میڈیا پر ایک ہی بحث ہے اور وہ یہ کہ نواز شریف علاج ی غرض سے ملک سے باہر جائیں گے یا نہیں کیونکہ اس سے قبل میاں صاحب ملک سے باہر نہ جانے کا اعلان کر چکے تھے تاہم پھر وہ علاج کے لیے باہر جانے پر رضامند ہو گئے اس کے پیچھے کیا وجہ تھی ؟ اس حوالے سے معروف کالم نگار عطاء الحق قاسمی نے اپنے حالیہ کالم میں کہا ہے
کہ میرے ذاتی خیال میں حکومتی ادارے نواز شریف کے بیرونِ ملک علاج کے حوالے سے جو تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، وہ حکومت کی نیک نامی کا باعث نہیں بن رہے۔ انہوں نے کہا کہ معتبر ذرائع یہ خبر دیتے رہے ہیں کہ میاں صاحب بیرون ملک جانے کے لئے بالکل تیار نہ تھے۔ ان سے اپنا فیصلہ تبدیل کرانے کے لئے اُن کے محبّان کو ان کے پاس بھیجا گیا کہ وہ ضد نہ کریں، اپنی جان دائو پر نہ لگائیں اور علاج کے لئے باہر چلے جائیں مگر وہ نہیں مانے۔ بالآخر ان کی والدہ کو جو نوے برس کی ہونے والی ہیں، کو متعدد بار ان کی طرف بھیجا گیا کہ اس خاندان میں بزرگوں کی عزت اور ان کا حکم ماننے کی روایت بہت مضبوط ہے، چنانچہ جب میاں صاحب کی والدہ نے انہیں کہا کہ وہ حکم دیتی ہیں کہ تم علاج کے لئے باہر جائو تو بیٹے کو ماں کی بات ماننا پڑی اور انہوں نے رضا مندی کا اظہار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف واقعی بیمار ہیں، انہیں مرضی کا علاج کرانے کی اجازت دینی چاہئے۔ اس کے جواب میں میاں نواز شریف نے یہ شرائط ماننے سے انکار کردیا ہے اور شاید ٹھیک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کا یہ فیصلہ ناقابلِ فہم ہے، اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوگا کہ نواز شریف خود پر لگائے گئے الزام کو درست تسلیم کرتے ہیں، ان حالات میں نواز شریف کے انکار کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں اگر وہ فیصلے میں تاخیر نہ کرتے اور آخر میں یہ شرط عائد نہ کرتے تو شاید ان کے مخالفین کے دل میں بھی ان کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو جاتا اور اس تاثر میں کمی آتی کہ وہ انتقامی سیاست کررہے ہیں یہ بات میں زور دے کر اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اگر اس دوران خدانخواستہ میاں صاحب کو کچھ ہوگیا تو انہیں اور ان کے گونگے رفقاء کو اندازہ نہیں کہ اندرون ملک ہی نہیں عالمی طور پر بھی اس کا ردِعمل کتنا شدید ہوگا۔

تازہ ترین خبریں