05:15 pm
 مشروط حکومتی پیشکش کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

مشروط حکومتی پیشکش کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

05:15 pm

لاہور(این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی مشروط حکومتی پیشکش کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط اجازت کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ درخواست میں کیس کو سماعت کے لیے فوری مقرر کرنے کی استدعا کی گئی
جسے عدالت عالیہ کی جانب سے منظور کرلیا گیا۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت شہباز شریف کے وکلاء کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ نواز شریف کے میڈیکل ٹیسٹ کروانے ہیں جن کی سہولت پاکستان میں میسر نہیں،سرکاری میڈیکل بورڈ نے بھی علاج کے لیے بیرون ملک جانے کا مشورہ دیا۔ لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس منگوائیں اور دونوں عدالتوں نے نواز شریف کی ضمانت منظور کی تھی۔وفاقی حکومت نے میڈیکل رپورٹس کا بغور جائزہ لیا اوروفاقی کابینہ نے نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے مشروط اجازت دی۔جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ حکومت نے کیا آرڈر کیے ہیں جس پر شہباز شریف کے وکلاء نے فاضل عدالت کو بتایا کہ حکومت نے ایک دفعہ باہر جانے کہ اجازت دی ہے اور ساتھ شرائط بھی رکھی ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف کا نام بھی ای سی ایل میں ہے جس پر وکیل نے بتایا کہ شہباز شریف کا نام بھی ای سی ایل میں تھا لیکن ہائیکورٹ نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا۔جسٹس علی باقر نجفی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا نیب کی سفارش پر نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا دائرہ اختیار لاہور ہائیکورٹ کا نہیں ہے؟۔ وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ فاقی ادارے نے نام ای سی ایل سے نکالنا ہے، لاہور ہائیکورٹ کے پاس بھی اس کیس کو سننے کا اختیار ہے، ملک کی کسی بھی عدالت نے نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا نہیں کہا تھا۔نواز شریف نے نہ صرف حکومتی میمونڈرم کو چیلنج کیا ہے بلکہ ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے اقدام کو بھی چیلنج کیا ہے، حکومتی شرائط قانون کے منافی ہیں۔اگر عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہوتاتو عدالت اپنا دائرہ اختیار استعمال کرے، ریاست کا اس معاملے میں کوئی تعلق نہیں ہے، ریاست کہاں سے آ گئی؟۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ای سی ایل آرڈیننس وفاق کو اختیار دیتا ہے کہ ایک دفعہ بیرون ملک جانے کی اجازت دے؟۔شہباز شریف کے وکیل نے کہاکہ احتساب عدالت کے حکم کی سزا معطل ہو چکی ہے جس پر جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ میرے خیال میں سزا معطل ہوئی ہے جرمانہ معطل نہیں ہوا۔بعد ازاں جسٹس علی باقر نجفی نے وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان کو روسٹرم پر طلب کیا۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں اعتراض اٹھایا اور کہا کہ یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہے اور اسے ہی اس کیس کو سننے کا اختیار ہے۔ بنچ کے سربراہ جسٹس باقر علی نجفی نے کہا کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے جو شخص جہاں کا رہائشی ہو وہاں کی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ حکومت نے جو ضمانت مانگی ہے کیا یہ وہ رقم ہے جو احتساب عدالت نے جرمانہ کیاتھا؟کیا ای سی ایل آرڈیننس وفاق کو اختیار دیتا ہے کہ ایک دفعہ بیرون ملک جانے کی اجازت دے؟ کیا قانون میں وہ شرائط ہیں جو نواز شریف پرعائد کی گئی ہیں،آپ یہ بتائیں کس نیب کے کہنے پر نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ تمام ریکارڈ اسلام آباد میں ہے ہم ریکارڈ منگوا لیتے ہیں۔عدالت نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردئیے اور سماعت ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ ایک اور سوال بھی ہے،کیا نواز شریف باہر جانا بھی چاہتے ہی یا نہیں۔جس پر درخواست گزار شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ میں ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کر دیتا ہوں۔

تازہ ترین خبریں