05:52 pm
مقتدر حلقوں نے فضل الرحمن کو گارنٹی دیدی، مولانا کو وہی چیز دیدی گئی جس کی ان کو خواہش تھی

مقتدر حلقوں نے فضل الرحمن کو گارنٹی دیدی، مولانا کو وہی چیز دیدی گئی جس کی ان کو خواہش تھی

05:52 pm

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان آج آزادی مارچ کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے آج ہی اسلام آباد سے روانہ ہوجائیں گے. ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کی جانب سے نا امیدی کے بعد مولانا فضل الرحمان شدید دباؤ میں تھے او ر وہ ”فیس سیونگ“مانگ رہے تھے لہذا انہوں نے اپنے احتجاج کا دائرہ ملک بھر میں پھیلانے کا اعلان کرنے وہ ”فیس سیونگ“حاصل کرلی ہے.سینئیر تجزیہ نگار اس پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔کسی کا خیال ہے
کہ مولانا فضل الرحمن ناکام ہو کر لوٹ رہے ہیں تو کسی کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے۔مولانا کے دھرنے سے قبل ہی یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ انہیں افغانستان اور بھارت کی سپورٹ حاصل ہے۔اسی پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کو افغانستان سے بھی کچھ نہ کچھ مدد ضرور ملی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مولانا کو افغانستان کے معاملے پر بھی گارنٹی دی گئی ہے کہ آپ ابھی چلے جائیں آئندہ آپ کو افغانستان اور طالبان والے معاملے میں اہمیت دی جائے گی۔جب کہ اسی معاملے پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئیر صحافی غریدہ فاروقی نے اشارہ دیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی کسی سے ملاقات ہوئی جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد سے آزادی مارچ لپیٹ دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ جتنا دباؤ حکومت پر یہاں ڈال سکتے تھے وہ ڈال دیا اب وہ پورے ملک میں اس دباؤ کو بڑھائیں گے، حکومت کی جڑیں کاٹ دی گئی ہیں اور بس اب آخری جھٹکا دینا باقی ہے، زیادہ سے زیادہ نومبر تک یہ معاملہ کھینچنا ہو گا دسمبر میں یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔