06:36 am
مولانا کے آزادی مارچ سے سب سے بڑا فائدہ حکومت کے اتحادیوں کو ہوا

مولانا کے آزادی مارچ سے سب سے بڑا فائدہ حکومت کے اتحادیوں کو ہوا

06:36 am

اسلام آباد: : سینئیر صحافی و کالم نگار سلیم صافی نے اپنے حالیہ کالم میں لکھا کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے حکومتی اتحادیوں کو بھی فائدہ ہوا۔ انہوں نے اپنے کالم میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ تو ظاہری فائدے ہیں جن سے مولانا نے اپنی جھولی بھر دی لیکن کچھ در پردہ فائدے ایسے ہیں کہ جن کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گے۔
 
ان در پردہ فائدوں کا مولانا اور ان کے دو تین خاص بندوں کا علم ہے، شاید چوہدری برادران کو یا پھر ان لوگوں کو جنہوں نے عنایت کی ہیں۔مولانا کے آزادی مارچ کا ان سے زیادہ ان کے اتحادیوں کو فائدہ ہوا۔ اس کے دبائو سے میاں شہباز شریف کے ساتھ مفاہمت کا سلسلہ تیز تر ہوگیا اور اتنی ڈھیل ملی کہ ڈیل کی منزل قریب نظر آنے لگی۔ پیپلز پارٹی کی ابھی ڈیل نہیں ہوئی لیکن اسے ڈھیل خوب مل گئی اور شاید مستقبل قریب میں ڈیل بھی ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کی وجہ سے تاجروں کو بھی فائدہ ہوا اور اس دبائو کی وجہ سے وفاقی حکومت نے ان کے ساتھ ڈیل کرلی۔ اسی طرح کا فائدہ خیبر پختونخوا کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کو بھی پہنچا۔ سلیم صافی نے اپنے کالم میں کہا کہ جاننے والے جانتے ہیں کہ مولانا کے آزادی مارچ کے اصل معاملات پس پردہ طے ہو رہے تھے۔ وہاں جو تبدیلیاں آئیں وہ بھی غیر معمولی ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ پی ٹی آئی کے اتحادیوں کو ملا۔ ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور بی این پی (مینگل) کو گزشتہ سوا سال کے دوران کوئی خاص گھاس نہیں ڈالی جا رہی تھی لیکن آزادی مارچ کی برکت سے ان کی وزیراعظم ہاؤس میں آؤ بھگت شروع ہوئی۔ پتا نہیں، یہ اچھا نتیجہ ہے یا برا لیکن بہرحال یہ ضرور سامنے آیا کہ وزیراعظم کو تیزی سے احساس ہو رہا ہے کہ وہ بھی سابق وزرائے اعظم کی طرح ایک وزیر اعظم ہیں۔ وہ اپنے آپ کو نواز شریف جیسا وزیراعظم سمجھنے لگے تھے لیکن اب دوبارہ اپنے سابقہ مقام پر آگئے۔ کچھ اہم لوگوں کو انہوں نے چائے پلانا بھی چھوڑ دی تھی لیکن اس دوران ان کو گھر پر پُرتکلف کھانے بھی کھلا دیئے۔مولانا نے جو در پردہ فائدے اٹھائے اور جن کی وجہ سے وہ ظاہری حد تک رسوا ہوکر اسلام آباد چھوڑنے پر آمادہ ہوگئے، ان میں سرفہرست تو یہ ہے کہ انہیں تسلی کرائی گئی کہ کچھ وقت کے انتظار کے بعد ان کی خواہشات پوری ہو جائیں گی۔ اسی طرح کچھ لوگ جو گزشتہ تین سال کے دوران مولانا کا نام سننے کو تیار نہ تھے، نہ صرف یہ کہ ان کے ساتھ رابطے میں آگئے بلکہ مستقبل میں ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا بھی وعدہ ہوا ۔انہوں نے کہا کہ یوں مولانا ناکام ہوکر نہیں بلکہ اپنی دانست میں جھولی بھر کر اسلام آباد سے اٹھ گئے ہیں۔ اسی طرح وہ احتجاج میں تیزی لانے کے لئے نہیں بلکہ احتجاج کو دھیرے دھیرے ختم کرنے کے لئے پلان بی کی طرف گئے ہیں۔ گویا پلان اے جتنا سنجیدہ تھا، پلان بی اتنا ہی غیر سنجیدہ ہے۔