03:24 pm
بانڈز کے ساتھ حکومت نے شہباز شریف کو کاغذ گارنٹی دینے کا بھی آپشن دیا  ،مشیر اطلاعات

بانڈز کے ساتھ حکومت نے شہباز شریف کو کاغذ گارنٹی دینے کا بھی آپشن دیا ،مشیر اطلاعات

03:24 pm

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ بانڈز کے ساتھ حکومت نے شہباز شریف کو کاغذ گارنٹی دینے کا بھی آپشن دیا تھا مگر انہوں نے انڈر ٹیکنگ دینے سے انکار کردیا تھا، یہی وجہ ہے کہ حکومت لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو اپنی جیت قرار دے رہی ہے ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فردوش عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے واضح موقف دیا تھا
کہ نواز شریف کو علاج معالجے کیلئے تمام سہولیات دی جائیں لیکن ملکی دستیاب قوانین کی روشنی میں کوئی ایسا فیصلہ کیا جائے جس سے عدالتی فیصلے اور نواز شریف کے اوپر جرمانے اور ان کی واپس آنے کی سیورٹی یقینی بنائی جائے اور عطاء تاڑر سے اس معاملے پر دو دن میرا تھون۔۔ ڈسکیشن ہوتی رہی اور حکومت کو ایسی گارنٹی درکار تھی کہ نواز شریف وطن واپس آئیں اور جب بانڈز کی شرط ن لیگ نے نہ مانی تو پھر کاغذ پر گار نٹی مانگی ۔ انہوں نے اس سے بھی انکار کردیا اور یہی وجہ ہے کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ مارے موقف کی جیت ہے کہ عدالت میںشہباز شریف نے بیان حلفی دیا ہے اور ہم نے بھی ان سے کاغذ پر بھی گارنٹی مانگی تھی ۔ انہون نے دعوٰی کیا ہم نے شہباز شریف کو بانڈ کے ساتھ انڈر ٹیکنگ کا بھی آپشن دیا تھا جو انہوں نے نہیں مانا ۔ ہم ایک انڈر ٹیکنگ مانگ رہے تھے مگر عدالت میں دو دیدی گئیں اس لئے یہ حکومت کی جیت ہے ۔ جرمانے نواز شریف پر کورٹ نے عائد کیے تھے ۔ فردوش عاشق اعوان نے کہا کہ اگر شہباز شریف ہماری بانڈز والی شرط مان لیتے تو ہم زیادہ سے زیادہ سول کورٹ میںجاتے مگر اب یہ لوگ کریمنل معاملے کی طرف جارہے ہیں اور اب خود انہوں نے اپنی گردن شکنجے میں پھنسالی ہے۔ یہ فیصلہ کابینہ نے کیا تھا کہ نواز شریف کو علاج کیلئے باہر جانے دیا جائے اور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا معاملہ بھی کابینہ میںجائے گا اور کابینہ ہی اس بارے حتمی فیصلہ کرے گی کہ فیصلہ چیلنج کرنا ہے یا نہیں۔ انہوںنے کہا کہ مجھے کیوں نکالا کے گردان کا ٹویٹ اس وجہ سے کیا کہ جب نواز شریف کے خلف فیصلے آئے تو انہوں نے عدلیہ پر بہتان تراشی کی اور عدالتوں سے نواز شریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا۔ جب فیصلے ن لیگ کے خلاف آئیں تو ان کو رویہ عدلیہ کے خلاف ہوتا ہے اور جب حق میں فیصلہ آجائے تو ان کا رویہ اور ہوتا ہے۔ اب نواز شریف کو یقین ہوجانا چاہیے کہ عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہمیشہ قانون کی بالا دستی کانعرہ لگا یا اور ہمیشہ کہا کہ ہمیں دو نہیں ایک پاکستان چاہیے اور ہم قانون کی بالا دستی یقینی بنائیں گے ۔