02:52 pm
پرویز الٰہی کاوزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے مخالفین  سے رابطہ پس پردہ کیا گیم ڈالی جا رہی ہے

پرویز الٰہی کاوزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے مخالفین سے رابطہ پس پردہ کیا گیم ڈالی جا رہی ہے

02:52 pm

اسلام آباد(ویب ڈیسک )سینئرتجزیہ کار ہارون رشیدکاکہناہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف کافی عرصے سے بیمارہیںانہوں نے تووارت عظمیٰ کے آخری دورمیں معاملات اسحاق ڈارکوسونپے رکھے ،بارہ کے بارہ ڈاکٹرکیسے جھوٹ بول سکتے ہیں،شوکت خانم کے ڈاکٹرز نے بھی انکوائری کی تھی ،عمران خان بھولتے نہیں ،97میں ن لیگ کی طرف سے انکی اہلیہ کی کردارکشی کی گئی
شایداس کاغصہ ہے ،نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے تجزیہ کار نے کہاکہ عمران خان کواپنے غصے پرقابو نہیں لیکن یہ انکاہی مسئلہ نہیں باقی سیاسی رہنما بھی ایساکرتے ہیں انہیں پڑھنے کاشوق کم ہے لیکن لکھتے ہیں تاہم انکاشہبا زشریف والامسئلہ ہے کہ سوچتے کم ہیں ، وہ اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنے کیلئے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔عدلیہ کیا کرے ، وزیراعظم نے خود جانے کی اجازت دی ، آصف زرداری کو بھی کراچی جانے دیں انہیں علاج کرانے دیں کہ سیاسی استحکام آئے اورکاروبار چلے ۔انہوں نے مزید کہا دسمبر میں عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے پرویز الٰہی ن لیگ کے ارکان سے بات کررہے ہیں، سبطین خان اورعلیم خان بھی سرگرم ہیں۔پی ٹی آئی کہتی ہے فضل الرحمٰن ناکام ہو گئی لیکن شاید انہیں پتہ نہیں کہ فضل الرحمٰن نے تو اتنا عروج کبھی دیکھا ہی نہیں۔فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے انہوں نے کہا ن لیگ نے بھی پیسے لئے ، کہا جاتا ہے اسامہ بن لادن سے بھی پیسے لئے لیکن عدالت میں ثابت کرنا پڑتا ہے ، پی ٹی آئی کو چاہئے کہ وہ اپنی بیگناہی عدالت میں ثابت کرے ۔ عمران خان نے عدلیہ، میڈیا، اپوزیشن اوراتحادیوں کیساتھ معاملہ خراب کرلیا ، ایسے میں حکومت کیسے چلے گی۔ماہر قانون جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا ملک میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں ان سب کی فارن فنڈنگ ہوتی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اسکا طریقہ کارکیا ہے ، اگر وہ پیسے ہمارے دشمن ملک کی حکومت یا کسی ادارے سے آتے ہیں تو تشویش کا معاملہ ہے ، پی ٹی آئی نے سیاست شروع کی تو اسکے پاس پیسے نہیں تھے ، بعد میں بہت پیسے آ گئے ، اگر یہ ثابت کرنا ہے کہ پیسے کہاں سے اور کیسے آئے لیکن اسکا پراسیس بہت طویل ہے ، یہ معاملہ رفع دفع ہو جائے تو بہتر ورنہ حکومت کی ساکھ خراب ہوگی۔اپوزیشن چاہتی ہے موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے ہوتے ہوئے اسکا فیصلہ ہوناچاہئے