06:19 am
اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیدیا گیا

اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیدیا گیا

06:19 am

اسلام آبا د (مانیٹرنگ ڈیسک ) آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب کی جانب سے شریف فیملی کی مختلف انڈسٹریز کو منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں. تفصیلات کے مطابق نیب لاہور کی جانب سے شہباز شریف فیملی کے خلاف زیر تحقیقات آمدن سے زائد اثاثہ جات ودیگر کیسز میں مختلف انڈسٹریز کو منجمد کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں، احکامات ڈی جی نیب لاہور کی جانب سے جاری کیے گئے،
جن پر فوری عمل درآمد کیے جانے کی تاکید کی گئی ہے. ذرائع کے مطابق نیب لاہور کی جانب سے احکامات ایس ای سی پی اور شریف خاندان کے افراد علاوہ ان کے فائنینشل ایڈوائزرز کو بھی جاری کردیئے گئے ہیں، مستقبل میں فریز کردہ انڈسٹریز سے شہباز شریف، حمزہ شہباز، سلمان شہباز، نصرت شہباز اپنے کاروبار سے منافع کے حصول کے حقدار نہیں ہوں گے. نیب کی جانب سے منجمد ہونے والی انڈسٹریز میں چنیوٹ انرجی لمیٹڈ، رمضان انرجی، شریف ڈیری اور کرسٹل پلاسٹک شامل ہیں اور دیگر ملز میں العریبیہ، شریف ملک پروڈکٹس، شریف فیڈ ملز، رمضان شوگر ملز اور شریف پولٹری شامل ہیں. اس حوالے سے نیب نے سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان اور شریف خاندان کے افراد کے علاوہ ان کے فنانشل ایڈوائزرکوبھی احکامات جاری کردیے گئے ہیں. دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس کی سماعت میں حاضری سے استثی دیتے ہوئے بینچ میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے. اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے جج ویڈیو اسکینڈل اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف نواز شریف کی جانب دائر اپیلوں پر سماعت کی‘سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پیش کی گئی جو کو عدالت منظور کرتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست صرف آج کے لیے منظور کی جاتی ہے. اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے جج وڈیو کیس سے متعلق پانچ افراد کو عدالتی گواہ کے طور پر طلب کرنے کی استدعا کی تھی‘نواز شریف نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ گواہوں کا عدالت یا پھر پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے بیان قلم بند کیا جائے اور ناصر بٹ کا بطور گواہ بیان ریکارڈ کیا جائے. انہوں نے اپیل کی ہے کہ آڈیو کا فرانزک کرنے والے برطانوی ماہر کا بطور عدالتی گواہ بیان ریکارڈ کیا جائے اور وڈیو ریکارڈنگ کے لیے استعمال ہونے والے موبائل فون کے فرانزک ماہر کو بھی طلب کیا جائے‘عدالت سے استدعا میں انہوں نے کہا ہے کہ گواہوں کے بیانات مرکزی اپیل پر انصاف پر مبنی فیصلے کے لیے ضروری ہیں. سابق وزیراعظم کا موقف ہے کہ شفاف اور آزادانہ ٹرائل میرا بنیادی حق ہے، احتساب عداتل کے جج نے اپنا دامن داغدار ہونے کے حوالے سے خود اعتراف کیا اور سپریم کورٹ نے بھی جس جج کے کنڈکٹ پر سوال اٹھائے ہوں تو اس سے شفاف ٹرائل کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے. نواز شریف کی اپیل پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے جواب جمع کرادیا‘نیب نے اپنے جواب میں نواز شریف کی جانب سے 5 افراد کو عدالتی گواہ بنانے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پانچوں افراد کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے. عدالت کو اپنے جواب میں نیب نے کہا کہ اضافی شواہد پیش کرنے کی کوئی نظیر نہیں اور فرانزک ماہرین کا یہاں زیر التوا معاملے سے کوئی تعلق نہیں بنتا اور نہ ہی ناصر بٹ اس مقدمے میں فریق ہیں مسلم لیگ (ن) کے رہنما نصیر بھٹہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ نیب کا جواب دیکھ کر لگتا ہے کہ نیب بالکل ہی پیدل ہو گیا ہے‘اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی اور جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ممکن ہے کہ دو ہفتے بعد ڈویژن بینچ کی تشکیل تبدیل ہو جائے.

تازہ ترین خبریں