07:02 am
’’مدت ملازمت میں توسیع نوٹیفکیشن ایک بار پھر خطرے میں پڑ گیا‘‘

’’مدت ملازمت میں توسیع نوٹیفکیشن ایک بار پھر خطرے میں پڑ گیا‘‘

07:02 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے کیس کی سماعت پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ تین رکنی بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم شامل ہیں۔ دوران سماعت بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنا وکالت نامہ عدالت میں جمع کردیا جس کے بعد وہ آرمی چیف کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل کی جانب سے دستاویزات پیش کیے جانے کے بعد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ
 
آپ جس شق میں ترمیم کر کے آ گئے ہیں وہ آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں۔ آپ نے جس آرٹیکل 255 میں ترمیم کی وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو سروس سے نکالے جا چکے ہیں یا ریٹائر ہو چکے ہیں۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل255 میں ایک ایسا لفظ ہےجو اس معاملے کا حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل میں حالات کےتحت ریٹائرمنٹ نہ دی جاسکےتو 2 ماہ کی توسیع دی جاسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بندہ ریٹائرمنٹ کی عمرکو پہنچ چکا تو اس کی ریٹائرمنٹ کومعطل کیا جاسکتا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی حد کا کوئی تعین نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر جنگ ہورہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جاسکتی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مدت مکمل ہونے پر محض غیر متعلقہ قاعدے پر توسیع ہو سکتی ہے۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو بہت عجیب بات ہے۔ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ نہیں ہو سکتی؟چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 255 جس پر آپ انحصارکررہے ہیں وہ توصرف افسران کیلئے ہے۔ یہ آرٹیکل تو صرف افسران سے متعلق ہے،آپ کے آرمی چیف اس میں نہیں آتے۔ جس شق میں آپ نے ترمیم کی وہ تو آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ دیکھتے ہیں کہ بحچ کب تک چلتی ہے جس کے بعد کیس کی مزید سماعت کو دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

تازہ ترین خبریں