07:24 am
’’ایک سال قید کی سزا ‘‘

’’ایک سال قید کی سزا ‘‘

07:24 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے گذشتہ روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد یہ خبر سامنے آئی تھی کہ فروغ نسیم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے لیکن فروغ نسیم کا عدالت میں پیش ہونا ان کے لیے مشکل کھڑی کر سکتا ہے۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل امجد شاہ کے مطابق سابق وزیرقانون فروغ نسیم معطل شدہ لائسنس کے ساتھ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو قابل تعزیر جرم ہوگا جس کی سزا ایک سال ہے۔
 
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زیر سماعت مقدمے کے دوران قانون میں تبدیلی کا معاملہ اس وقت زیر سماعت ہے اور سپریم کورٹ اب فیصلہ کرے گی تو اس سے یہ پوائنٹ کلیر ہو جائے گا۔ امجد شاہ نے بتایا کہ اس وقت فرخ نسیم کا وکالت کا لائسنس بائے آپریشن آف لاء معطل ہے اور جب تک لائنس بحال نہیں ہوتا وہ کیس نہیں لڑسکتے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے استعفیٰ دے دیا تھا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے اختتام کے فوری بعد وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ جس سے متعلق بتایا گیا تھا فروغ نسیم نے آرمی چیف کی طرف سے سپریم کورٹ میں کیس لڑنے کیلئے اپنی وزرات سے استعفیٰ دیا ہے۔ فروغ نسیم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہونے کے بعد اپنی وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ کیونکہ فروغ نسیم وفاقی وزیر کا عہدہ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ میں آرمی چیف کا کیس نہیں لڑ سکتے تھے۔سپریم کورٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔ احاطہ عدالت میں صحافیوں کے سوالات کا جواب بھی دیا۔ صحافی نے فروغ نسیم سے سوال کیا کہ پرویزمشرف کے وکیل بن کروزیرقانون بنے،اب کیا بننے جارہے ہیں؟ جس پر انہوں نے کہا کہ اللہ کی ذات بہت بڑی ہے،اس کے علاوہ میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ صحافی نے سوال کیا کہ آپ کو اپنی غلطی کااحساس ہوگیا؟ جس کے جواب میں فروغ نسیم نے کہا کہ کون سی غلطی،ایسی بات نہ کریں، غلطی آپ نے کی ہے،میں نے نہیں۔

تازہ ترین خبریں