10:41 am
آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں تاخیر صرف ایک ہی صورت میں کی جاسکتی ہے، چیف جسٹس نےواضح ریمارکس دیدیئے

آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں تاخیر صرف ایک ہی صورت میں کی جاسکتی ہے، چیف جسٹس نےواضح ریمارکس دیدیئے

10:41 am

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ماضی میں جنرل خود کو دس دس سال توسیع دیتے رہے، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کر لیتے ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، اس میں سب کی بات سنیں گے، یہ سوال آج تک کسی نے نہیں اٹھایا، 
 
اگر سوال اٹھ گیا ہے تو اسے دیکھیں گے۔اٹارنی جنرل نے کابینہ کی نئی سمری عدالت میں پیش کی اور موقف اپنایا کہ عدالت کو آرمی رولز کی شق 255 اورآئین کی شق 243 کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ ‏ازسرنو توسیع سے متعلق قانون دکھائیں جن پرعمل کیا۔ حکومتی وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ‏رول 19 کے مطابق جواب نہ آنے کا مطلب ہاں ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر 57 سال ہے لیکن اس رول میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر نہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ نہیں ہوسکتی، یہ تو بہت عجیب بات ہے۔حکومتی وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا آئین کی شق 243 کے تحت وفاقی حکومت کو مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار ہے اور اس میں دوبارہ ملازمت میں توسیع دینے کی بھی بات کی گئی ہے۔بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے آرٹیکل 255 جس پر آپ انحصار کررہے ہیں وہ تو صرف افسران کے لیے ہے۔ جس میں آپ نے ترمیم کی وہ تو آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں، یہ آرٹیکل تو صرف افسران سے متعلق ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ کل ہم نے جو نکات اٹھائے تھے آپ نے انھیں تسلیم کیا، اسی لیے انھیں ٹھیک کرنے کی کوشش کی گئی۔اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ ہم نے ان غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے ازخود نوٹس نہیں لیا، ریاض راہی کی درخواست پر ہی سماعت ہو رہی ہے، میڈیا کو اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ کیا رولز پر بحث کے لیے وقت دیا گیا؟اٹارنی جنرل نے مثبت میں جواب دیا کہ ارکان کو وقت دیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں دکھائیں کہ کابینہ نے کل کیا منظوری دی ہے، ہم نے تو مواد دے کر فیصلہ لکھا تھا۔حکومت کے وکیل منصورعلی خان نے موقف اپنایا کہ آرٹیکل 255 میں ایک ایسا لفظ ہے جو اس معاملے کا حل ہے، اس آرٹیکل میں حالات کے تحت اگر ریٹائرمنٹ نہ دی جاسکے تو دو ماہ کی توسیع دی جاسکتی ہے۔بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اگر جنگ ہو رہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جا سکتی ہے۔