10:44 am
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ، بابر اعوان نے سارے مسئلے کا حل پیش کردیا

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ، بابر اعوان نے سارے مسئلے کا حل پیش کردیا

10:44 am


اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست زیر سماعت ہے جس پر اب سے کچھ دیر بعد سماعت دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ اس حوالے سے بابر اعوان نے کہا کہ عدالت کا اختیار تسلیم کیا جانا چاہئیے ، یہ آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وہ جرنیل ہیں جو جی ایچ کیو میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک وہ جرنیل ہیں جو شہید ہوئے۔بابر اعوان نے کہا کہ قانون میں ابہام ہے تو سپریم کورٹ ابہام دور کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نکتہ یہ ہے کہ وزیراعظم کا اختیار ہے اور وزیراعظم کا اختیار استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہ احتیاط سے کرنے والا کام اور احتیاط سے کرنے والی بات ہے۔
 
یاد رہے کہ آج صبح سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ تین رکنی بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم شامل ہیں۔ دوران سماعت بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنا وکالت نامہ عدالت میں جمع کردیا جس کے بعد وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے پیش ہوئے۔دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا سمجھ نہیں سکا ازخود نوٹس نہیں لیا بلکہ ریاض راہی کی درخواست پر سماعت کی جاری ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کل لئے گئے اقدامات سے متعلق بتائے۔ غلطیوں کی نشاندہی کی حکومت نے انہیں تسلیم کرلیا۔ اسی لئے انہی ٹھیک کرنے کی کوشش کی گئی۔جس پر ردعمل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی۔ سماعت کے دوران آرٹیکل 255 پر بھی بات ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 255 جس پر آپ انحصارکررہے ہیں وہ توصرف افسران کیلئے ہے۔ یہ آرٹیکل تو صرف افسران سے متعلق ہے،آپ کے آرمی چیف اس میں نہیں آتے۔ جس شق میں آپ نے ترمیم کی وہ تو آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ دیکھتے ہیں کہ بحچ کب تک چلتی ہے جس کے بعد کیس کی مزید سماعت کو دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دیا گیا جو اب سے کچھ دیر بعد دوبارہ شروع ہو جائے گی۔