10:57 am
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر غلطیاں،معاملہ صدرمملکت کے استعفے تک جاپہنچا

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر غلطیاں،معاملہ صدرمملکت کے استعفے تک جاپہنچا

10:57 am


اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ماضی میں5سے 6 جنرلز 10، 10 سال تک توسیع لیتے رہے، کسی نے پوچھا تک نہیں تاہم آج یہ سوال سامنے آیا ہے، اس معاملے کو دیکھیں گے تاکہ آئندہ کے لیے کوئی بہتری آئی۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس زیر سماعت ہے۔
 
گذشتہ روز ہونے والی سماعت سے متعلق صحافی سید کوثر کاظمی نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں بتایا تھا کہ چیف جسٹس نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے صدر ڈاکٹر مملکت عارف علوی کا عاصمہ شیرازی کو دیا جانے والا انٹرویو طلب کر لیا۔خیال رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق جاری کیا جانے والے نوٹی فکیشن پر عملدرآمد روک دیا تھا۔دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں کہا کہ وزیراعظم کو آرمی چیف تعینات کرنے کا اختیار نہیں۔آرمی چیف تعینات کرنے کا اختیار صدر کا ہے۔یہ کیا ہوا پہلے وزیراعظم نے توسیع کا لیٹر جاری کر دیا۔ پھر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ توسیع آپ نہیں کر سکتے۔ اس معاملے پر گذشتہ روز خاتون صحافیوں نے تشویش ظاہر کی تھی۔ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں خاتون صحافی مہر بخاری نے کہا کہ گذشتہ ماہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مجھے بتایا تھا کہ وہ سمری پر دو ماہ قبل ہی دستخط کر چکے ہیں۔گذشتہ روز بریگیڈئیر اعجاز شاہ اس حوالے سے پُراعتماد تھے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع ملک کے لیے بہترین ثابت ہو گی۔ لیکن آج سپریم کورٹ اس حوالے سے مزید جاننا چاہتی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے سوال بھی اُٹھایا ۔دوسری جانب خاتون صحافی عاصمہ شیرازی نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ کیے گئے انٹرویو کا ویڈیو کلپ شئیر کیا اور کہا تھا کہ صدر مملکت نے 12 ستمبر کو مجھے انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ تب تک انہیں ایسی کوئی سمری موصول نہیں ہوئی تھی جبکہ نوٹی فکیشن 19 ستمبر کو جاری ہوا تھا۔ اور یہی آج چیف جسٹس نے بھی کہا ۔ انہوں نے سوال اُٹھایا کہ آخر یہ کیا اسٹوری ہے؟