12:23 pm
’’درخت رات کو آکسیجن دیتے ہیں‘‘وزیراعظم کی زبان ایک بار پھر پھسل گئی

’’درخت رات کو آکسیجن دیتے ہیں‘‘وزیراعظم کی زبان ایک بار پھر پھسل گئی

12:23 pm


اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم کی زبان ایک بار پھر پھسل گئی ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کلین اینڈ گرین پاکستان انڈیکس کا افتتاح کیا ،افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے جوشِ خطابت میں کہادیا کہ "درخت رات کو آکسیجن دیتے ہیں"۔ یاد رہے کہ درخت دراصل دن میں آکسیجن دیتے ہیں جبکہ رات کو کاربن ڈائی اکسائیڈ خارج کرتے ہیں۔واجح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اس سے پہلے بھی اپنی تقاریر میں تاریخی،
 
جغرافیائی اور اعداد و شمار کی غلطیاں کر چکے ہیں اور اب انہوں نے یہ تھیوری پیش کردی ہے کہ درخت رات کو آکسیجن دیتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی انسانی زندگی کے لئے انتہائی خطرناک ہے، پاکستان کو صاف اور سرسبز بنا کر مثالی ملک بنائیں گے،ساری قوم کو مل کر ماحولیاتی آلودگی کا مقابلہ کرنا ہو گا، پاکستان کی اگر ہم قدر کریں تو یہ سونا اگلے گا اور بڑا سیاحتی مرکزبن کر ابھرے گا، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نیا تاریخی بلدیاتی نظام لے کر آ رہے ہیں، لوگ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے، ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو رہا ہے، ٹیکس کے پیسے ملک کو ٹھیک کرنے اور ماحول کو بہتربنانے پر خرچ کریں گے۔اسی دوران ان کے منہ سے نکل گیا کہ درخت رات کو آکسیجن دیتے ہیں۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم کی زبان پھسل چکی ہے۔ 20 نومبر 2018 کو وزیراعظم نے تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ انسانی تاریخ میں حضرت موسیٰ کا ذکر ہے لیکن حضرت عیسیٰ کا ذکر ہی نہیں ہے۔ 23 اپریل کو خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ جرمنی اور جاپان نے لاکھوں لوگوں کو ہلاک کیا، پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ جاپان اور جرمنی سرحد پر مل کر صنعتیں لگائیں۔ 20 نومبر کو وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں برآمد کنندگان میں سیلز اور انکم ٹیکس ریفنڈ کی تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ منہگائی کی وجہ سےغربت بڑھتی ہے۔