11:20 am
 آرمی چیف کی توسیع کیلئے ووٹوں کا بندبست کیسے کیا جائیگا، حکومتی وزیر کابیان سب کی توجہ کا مرکز بن گیا

آرمی چیف کی توسیع کیلئے ووٹوں کا بندبست کیسے کیا جائیگا، حکومتی وزیر کابیان سب کی توجہ کا مرکز بن گیا

11:20 am

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بال پارلیمنٹ کی کورٹ میں ڈال دی ہے۔اب کیا حکومت کے لیے اپوزشین کو قانون سازی کے لیے منانا ایک چینلج ہو گا؟ اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئرصحافی وسیم بادامی کا کہنا ہے کہ دو وجوہات کی بنا پر حکومت بہت پر اعتماد ہے۔جب مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تب میں نے کہا تھا کہ ہم نواز شریف کے خلاف ہونے والے دھرنے میں بھی تھے اور عمران خان کے خلاف ہونے والے دھرنے میں بھی موجود ہیں۔جب نواز شریف کے خلاف دھرنا دیا گیا
تو وزراء باقاعدہ پریشان نظر آتے تھے۔لیکن اب پی ٹی آئی کے وزراء کو کوئی ٹینشن ہی نہیں تھی۔جب ہم ان سے سوال کرتے تھے کہ آپ اتنے پر اعتماد کیوں ہیں تو وہ کہتے تھے کہ جنہوں نے نمٹنا ہے خود ہی نمٹ لیں گے۔وسیم بادامی نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر شیخ رشید نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ ساری جماعتیں ساتھ دیں گی۔پیپلز پارٹی بھی ساتھ دے گی اور ن لیگ بھی۔شیخ رشید نے کہا کہ ہمیں ان سے بات کرنے کی ضرورت نہیں،جن کا مسئلہ ہے وہ خود بات کر لیں۔اس کے علاوہ تمام تر آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون سازی کے لیے سادہ اکثریت سے سے بھی کام چل جاتا ہے۔واضح رہے جمعرات کے روز سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کو حکم دیا گیا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے 6 ماہ کے اندر اندر قانون سازی کی جائے۔اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت کو نیا قانون منظور کروانے یا موجودہ قانون میں ترمیم کروانے کیلئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی حمایت کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اس معاملے میں اپوزیشن کی حمایت درکار ہوگی۔ اس تمام معاملے کے حوالے سے ملک کی 2 بڑی اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کے لوگ دانشمندی سے کام لیتے تو معاملہ پہلے دن حل ہوجاتا۔قانون سازی متفقہ کرانی ہوتو اپوزیشن کو آن بورڈ لیاجاتاہے۔ پنڈی کےممبراسمبلی کےریمارکس کیوجہ سےپارلیمانی معاملہ درست نہیں چل سکتا۔ قانون کا مسودہ کیا ہوتاہے جواب مسودہ سامنے آنے پر ملیں گے۔ دوسری جانب رہنما پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکومت کواپوزیشن کےتعاون کی ضرورت ہوگی اس کیلئے بہتر رویےکی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی کبھی دباؤ کے تحت ووٹ نہیں ڈالتی۔ وزیراعظم نے آج کی گفتگو میں سب کو دشمن ڈکلیئرکیا۔ وزیراعظم کابیان اپوزیشن کومجبورکرے گاکہ قانون سازی نہ ہو۔ میرے لیے یا دوسروں کیلئے ملک دشمن ہوناسب سےبڑی گالی ہے۔ تاہم ان کی دعا ہے کہ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن آپس میں مل بیٹھیں اور معاملات بہتری کی جانب جائیں۔

تازہ ترین خبریں