05:05 pm
چیف جسٹس کو آرمی چیف کی طلبی کی دعوت وزیراعظم نے خود دی،عمران خان کی گالم گلوچ کے باعث ملک میں بحران پیداہوا

چیف جسٹس کو آرمی چیف کی طلبی کی دعوت وزیراعظم نے خود دی،عمران خان کی گالم گلوچ کے باعث ملک میں بحران پیداہوا

05:05 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) سینئر تجزیہ کار عارف نظامی نے کہاکہ گورننس کیلئے بہترین ٹیم چنی جاتی ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ انڈر 19ٹیم سے جان چھڑالیں۔انہوں نے حکومتی ٹیم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی ٹیم میں شیخ رشید احمداہم کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا شفقت محمود نے وزیرریلوے کی تعریف کرتے ہوئے کہا شیخ رشید بہت تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ لوٹا پن کو ذلت کے بجائے
تعریف سمجھا جانے لگا ہے۔جس نے ہرپارٹی میں گھا ٹ گھاٹ کا پانی پیا ہو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بہت تجربہ کار ہے۔ عارف نظامی کا کہنا تھاکہ عمران خان کی گالم گلوچ کے باعث موجودہ بحران پیدا ہوا۔ انہوں نے مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے چیف جسٹس کو للکارکر کہا کہ ملک میں طاقتور کیلئے کوئی قانون نہیں ،اس کا مطلب وزیراعظم نے دعوت دی کہ چیف جسٹس ملک کے سب سے طاقتور آرمی چیف کو بلائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آرمی چیف کہ بعد سب سے زیادہ طاقتور ملک کا وزیراعظم ہوتا ہے۔ یادرہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہاتھا کہ تاثریہ ہے کہ طاقتور اور کمزور کیلئے الگ الگ قانون ہے، عدلیہ اپنا اعتماد بحال کرے۔وہ پیر کو ہزارہ موٹر وے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ وزیر اعظم نے کہاتھا کہ ملکی نظام عدل کاتاثر یہی ہے کہ یہاں طاقتور کے لیے ایک قانون ہے اور کمزور کے لیے دوسرا، عدلیہ عوام میں اپنا اعتماد بحال کرے، چیف جسٹس کھوسہ اور ان کے بعد آنے والے جسٹس گلزار ملک کو انصاف دے کر آزاد کریں۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں ایک چیف جسٹس کو فارغ کرنے کے لیئے دوسرے جج کو نوٹوں کے بریف کیس دے کر بھیجا گیا۔ سیاسی مخالفین کو سزائیں دلوانے کیلئے فون پر فیصلے لکھوائے گئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے جو مدد چاہیے حکومت تیار ہے لیکن اس ملک میں عدلیہ نے عوام کا ااعتماد بحال کرنا ہے کہ یہاں سب کیلئے ایک قانون ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازت میں توسیع کے نوٹیفکیشن کو مطل کردیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع کر دی تھی اور معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا تھا۔ اس معاملے پر گذشتہ روز سے ہی سیاسی مبصرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کے تبصرے اور مباحثے جاری ہیں۔

تازہ ترین خبریں