05:48 pm
پاکستان میں تیل و گیس کے وسیع و پوشیدہ ذخائر دریافت کرنے کے لیے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی پیش رفت

پاکستان میں تیل و گیس کے وسیع و پوشیدہ ذخائر دریافت کرنے کے لیے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی پیش رفت

05:48 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر توانائی و پٹرولیم عمر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان کا توانائی کا شعبہ تیزی سے پھل پھول رہا ہے کیونکہ اس کا ذیلی توانائی کا شعبہ قابل تجدید توانائی، ترسیل اور تقسیم کے نظام کے ہمراہ اپنی تقریباً 60 ارب ڈالر کی مارکیٹ کے پیشکش کر رہا ہے اور تیل و گیس کی بڑے پیمانے پر تلاش کے حوالے سے ماہ دسمبر 2019ء کے دوران تقریباً 40 نئے مقامات کی نیلامی کی جائے گی
۔ وزارت پاور ڈویژن کی طرف سے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں جرمن سفیر برنارڈ شلانگیک سے ملاقات کے دوران کیا جنہوں نے وفاقی وزیر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم بھی ملاقات کے دوران موجود تھے۔ جرمن سفیر کو نئی قابل تجدید توانائی پالیسی سے آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلی مرتبہ نئے قابل تجدید توانائی منصوبوں کے حوالہ سے فیصلہ سازی اور عملدرآمد دونوں حوالہ سے صوبے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سٹیئرنگ کمیٹی میں تمام صوبوں کو جائز نمائندگی دی گئی ہے اور اس مقصد کیلئے متبادل توانائی ڈویلپمنٹ بورڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں بجلی کے نئے منصوبوں کو شروع کرنے کیلئے ترسیل کے ساتھ ساتھ 25 سالہ پیداواری منصوبہ بھی تشکیل دیا ہے۔ ندیم بابر نے آگاہ کیا کہ مسابقتی بولی کی بنیاد پر کئی سال پر محیط بڑے پیمانے پر قابل تجدید توانائی کے منصوبے بھی قابل غور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ملک بھر میںشمسی پلیٹوں اور ملک میں ونڈ ٹربائنز سمیت قابل تجدید توانائی کی مصنوعات کے تیار کنندگان کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہو گا جس سے ملک میں روزگار کے خاطر خواہ مواقع پیدا ہوں گے اور کاروبار کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کے حوالہ سے جرمن سفیر کو آگاہ کیا گیا کہ عالمی سطح پر تلاش کیلئے قابل قبول پالیسی کی عدم موجودگی کی وجہ سے پاکستان کی صلاحیت کے مقابلہ میں یہاں تلاش کی انتہائی کم کوششیں کی گئی ہیں۔ پالیسی کی تشکیل نو کے بعد حکومت دسمبر 2019ء میں 35 آف شور اور 10 آن شور سائٹس نیلامی کیلئے تیار ہیں۔ عمر ایوب خان نے جرمن سفیر کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فی کس بجلی کے استعمال کی بڑی گنجائش جو چین کی موجودہ 2500 کلو واٹ استعمال کی گنجائش سے صرف 500 کلو واٹ کم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ موجودہ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کے اطلاق کے بعد پاکستان میں بجلی کے مصرف میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گردشی قرضوں پر قابو پانے کا منصوبہ تشکیل دیا ہے اور گردشی قرضے گزشتہ حکومت کے دوران 39 ارب روپے ماہانہ بڑھ رہے تھے اور کامیابی کے ساتھ اسے کم کرکے 10 ارب روپے ماہانہ پر لایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی کے شعبہ میں بہتری لانے کیلئے موجودہ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چوری، وصولیوں کی خصوصی مہم، اپنی ملازمین کے خلاف کارروائیوں اور ایسے دیگر اقدامات کی بدولت ملک بھر میں 80 فیصد فیڈرز پر بجلی کی بلاتعطل فراہمی کی جا رہی ہے اور باقی ماندہ 20 فیصد پر کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ لائن لاسز کو کم کرنے اور ڈسکوز کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے اے ایم آئی میٹرز اور کیبلز کی تنصیب سمیت نئی ٹیکنالوجی میں خاطر خواہ سرمایہ کاری بھی کی گئی ہے۔ جرمن سفیر نے توانائی کے شعبوں میں حکومت کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ دنیا اور ان کے کاروباری ادارے پاکستان میں ہونے والی ان پیشرفتوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمن کمپنیاں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کیلئے آمدہ بولی کے عمل میں حصہ لینے کیلئے بھی دلچسپی لے رہی ہیں۔

تازہ ترین خبریں