05:50 pm
آرمی چیف کی تعیناتی اور مدت ملازمت میں توسیع پر قانون سازی حُکومت کا ساتھ دیں گے یا نہیں؟ا

آرمی چیف کی تعیناتی اور مدت ملازمت میں توسیع پر قانون سازی حُکومت کا ساتھ دیں گے یا نہیں؟ا

05:50 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف کی تعیناتی اور مدت ملازمت میں توسیع پر قانون سازی حُکومت کا ساتھ دیں گے یا نہیں؟مسلم لیگ ن نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔۔۔مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء محمد زبیر نے کہا ہے کہ قانون سازی کا فیصلہ حکومتی مسودہ دیکھ کرکریں گے، یہ حساس معاملہ ہے ،اس میں ووٹوں کا مسئلہ نہیں،بلکہ اتفاق رائے سے قانون سازی کرنے کا مسئلہ ہے، پارٹی قیادت کی گائیڈ لائن آئے گی،
جس کے بعد مسودہ دیکھ کرآرمی چیف کی تعیناتی اورمدت ملازمت میں توسیع کیلئے کردارادا کریں گے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرا م میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو قانون سازی کیلئے اپوزیشن کے ووٹوں کی ضرورت ہویا نہ ہو، لیکن ضروری یہ ہے کہ اس حساس معاملے کو مل بیٹھ کرمتفقہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں اپوزیشن کے ساتھ دینے کی بات ہے توہم حکومتی مسودہ دیکھ کرہی کچھ فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی اورمدت ملازمت میں توسیع کی قانون سازی کیلئے ماحول بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ آپ نے دیکھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دینے سے اپوزیشن کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ، لیکن حکومتی وزراء کے بیانات پرپھر اپوزیشن کوردعمل دینا پڑتا ہے،عمران خان اگر ہمیں طعنہ دیں گے کہ ہمارا مافیا سے تعلق ہے تو ہم اس کے باوجود اپنی رائے دینے سے توپیچھے نہیں ہٹیں گے۔عدالت نے ایسی کوئی بات بیان نہیں کی کہ جس میں تین سال کی مدت توسیع کی گئی ہے۔ عدالت نے 6 مہینے کہا ہے اور پھر قانون سازی کی بات کی ہے۔ایک طرف حکومت کہتی ہے ہم اداروں کو تصادم کی طرف نہیں لے کرجانا چاہتے پھر کہتے جنہوں نے بات کرنی ہے وہ اپوزیشن سے کرلیں گے۔کل فروغ نسیم نے بھی پریس کانفرنس میں کہاکہ آرمی چیف کا 3 سال کی مدت شروع ہوگئی ہے، بھئی کہاں لکھا ہوا ہے؟دوسرا انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن ساتھ نہیں دے گی تو توہین عدالت ہوگی۔ اپوزیشن مسودہ دیکھ کرہی کرے گی، قبل ازوقت کیسے کہہ سکتے ہیں؟ یہ توہین عدالت ہوگی؟ ہوسکتا ہوکہ حکومت خود توہین عدالت کردے۔فروغ نسیم وہی شخص ہیں جو الطاف حسین کو نیلسن منڈیلا کے بعد دنیا کا بڑا لیڈر کہتے تھے۔محمد زبیر نے کہا کہ ابھی ہماری پارٹی قیادت کی گائیڈ لائن آئے گی اور پھر مسودہ دیکھ کرہی کوئی بات کریں گے۔