11:27 am
17 سالہ ملزم نے پہلے فوزیہ کو قتل کیا بعدازاں 6 سالہ ثانیہ کے ساتھ زیادتی کی

17 سالہ ملزم نے پہلے فوزیہ کو قتل کیا بعدازاں 6 سالہ ثانیہ کے ساتھ زیادتی کی

11:27 am

میلسی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) میلسی میں قتل ہونے والی دو بچیوں کے واقعے میں خوفناک انکشافات سامنے آ گئے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز ایک ہی خاندان کی دو بچیوں کے قتل کا لرزا خیز واقعہ پیش آیا تھا جس کا ملزم قریبی رشتہ دار ہی نکلا۔6 سالہ ثانیہ اور 4 سالہ فوزیہ کے قاتل کی عمر صرف 17 سال تھی۔ورثاء نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کروایا تاہم پولیس کی فوری تفتیش سے اصل ملزم بےنقاب ہو گیا۔
ملزم ورثاء اور پولیس ٹیموں کے ساتھ ساتھ پھرتا رہا۔ملزم نے ابتدائی تفتیش میں جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دونوں بچیوں کو ورغلا کر مکئی کے کھیت میں لے کر گیا اور سب سے پہلے فوزیہ کو گلا دبا کر قتل کیا۔بعدازاں 6 سالہ ثانیہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور پکڑے جانے کے خوف سے اس کا بھی گلا دبا کر قتل کر دیا۔ دونوں بچیاں رشتے میں قاتل کی بھانجیاں لگتی تھیں۔ ڈی پی او وہاڑی اختر فاروق نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس کو مورخہ 28نومبر کو پروین بی بی کی طرف سے درخواست موصول ہوئی کہ چمن آباد کے علاقہ سے 6 سالہ ثانیہ 4 سالہ فوزیہ کے کو 4کس نامزد اور 3کس نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا . جس پر فوری طور پر مقدمہ درج کیا گیا اور بچی کو ٹریس کرنے کے تحرک شروع کر دیا گیا جبکہ 2کس نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا. لیکن اگلی صبح پولیس کو دونوں ڈیڈ باڈیز فصل مکئی سے ملی. اس اطلاع پر ڈی پی او وہاڑی پولیس کی بھاری نفری اور پولیس کی فرانزک اور ٹیکنکل ٹیمیں موقع پر پہنچی جبکہ ملزم کو ٹریس کرنے کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دے گئی..جن کی محنت سے ملزم اظہر بعمر 16سال کو چند گھنٹوں میں ہی گرفتار کر لیا گیا. ملزم بچیوں کا رشتہ میں ماموں لگتا تھا اس لئے کسی کو اس پر شک نہیں ہوا اور وہ پولیس اور رشتہ دارواں کے ہمراہ بچیوں کو ڈھونڈنے میں شانہ بشانہ بھی تھا لیکن جیسے ہی تفتیش کا دائرہ کا وسیع کیا گیا تو ٹیم نے ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا. ابتدائی ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق ثانیہ بعمر 6سال کے زیادتی کی گئی جبکہ 4سالہ فوزیہ کے ساتھ نہیں ہوئی لیکن ملزم نے اپنی شکایت کے ڈر سے دونوں کو گلہ دبا کر بے دردی سے قتل کر دیا. اس موقع پر ڈی پی او وہاڑی اختر فاروق نے کہا ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ والدین کے لئے یہ کتنا کٹھن مرحلہ ہے اور ان کے دل پر کیا گزر رہی ہو گی لیکن ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے ملزم کو سخت سے سخت سزا دلوائی جا سکے تاکہ وہ دوبارہ ایسا فعل کرنے کے قابل نہ رہے