12:12 pm
مولانا فضل الر حمٰن کے جلسے میں نوجوان جاں بحق ، مولانا پھنس گئے ، کیا اقدام اٹھا لیا گیا

مولانا فضل الر حمٰن کے جلسے میں نوجوان جاں بحق ، مولانا پھنس گئے ، کیا اقدام اٹھا لیا گیا

12:12 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف مقدمے کی درخواست دائر کر دی گئی۔تفصیلات کے مطاطق آزادی مارچ کے دوران کنٹینر سے ٹکرا کر جاں بحق ہونے والے نوجوان کے والد نے رہبر کمیٹی ،مولانا فضل الرحمن، شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو فریق بناتے ہوئے مقدمے کے اندراج کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔ عثمان کے والد نے مولانا فضل الرحمن،
شہباز شریف ، بلاول بھٹو اور دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی ہے۔وکیل اکرم چوہدری کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں مقدمہ اندراج کی درخواست جمع کرائی گئی ہے۔درخواست گزار کا موقف ہے کہ 6نومبر کو نائنتھ ایونیو پر میرا بیٹا رات کو اسٹریٹ لائٹس بند ہونے اور آزادی مارچ کے کنٹینر سے ٹکرانے کی وجہ سے جاں بحق ہوا ہے۔ عثمان کے والد نے اپنی درخواست میں کہا کی میرے بیٹے کی موت کی ذمہ داری آزادی مارچ انتظامیہ اور اسلام آباد انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ایس ایچ او تھانہ کراچی کمپنی کو اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔درخواست میں اکرم درانی،میر حاصل بزنجو،عثمان کاکڑ اور ڈی سی حمزہ شفقات کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ جب کہ دوسری جانب آزادی مارچ مذاکرات کے حوالے سے مولانا فضل االرحمن نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ دسمبر تک تبدیلی آئے گی۔ جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر نئے انتخابات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔حکومت جائے گی یا ان ہاؤس تبدیلی آگئے گی۔ اس کا انتظار کرنا ہو گا۔نئے سال کے آغاز میں انتخابات ہوتے نظر آ رہے ہیں۔فضل الرحمن نے مزید کہا کہ مارچ کے مقاصد حاصل ہو رہے ہیں۔انتظار کرنا چاہئیے۔تمام طبقات متفق ہیں کہ حکومت نہیں چل سکتی۔کل اے پی سی بلائی ہے۔لائحہ عمل پر غور ہو گا۔شہباز شریف بیرون ملک ہیں۔اعلیٰ لیگی وفد اے پی سی میں شریک ہو گا۔

تازہ ترین خبریں