01:50 pm
کاشانہ میں کم عمر، یتیم لڑکیوں کو اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور صوبائی وزیر کو خوش کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے

کاشانہ میں کم عمر، یتیم لڑکیوں کو اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور صوبائی وزیر کو خوش کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے

01:50 pm

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان اوررکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ بخاری نےکہاہے کہ کاشانہ ہاؤس کی سپر ٹینڈنٹ اَفشاں لطیف نے حکومتی وزراءاوراعلیٰ شخصیات پرسنگین اِلزامات لگائےہیں،کاشانہ ہاؤس اوردالامان میں بچیوں کےساتھ اِنسانیت سوزسلوک کیاجارہاہے،وزیر اعلیٰ پنجاب اَفشاں لطیف کے الزامات کی انکوائری کرائیں اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لائیں۔تفصیلات کےمطابق کاشانہ ہاؤس
کی سپر ٹینڈنٹ اَفشاں لطیف کےاِنکشافات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہاَفشاں لطیف نے حکومتی کارندوں کوبےنقاب کیاتواُن کا تبادلہ کرنےکےآڈرجاری کردیے گئے،اَفشاں لطیف نےبتایاکہ اَفشاں کرن اورصوبائی وزیراجمل چیمہ کم عمربچیوں کی شادی کاکہتے ہیں،کاشانہ ہاؤس کی بچیوں کو غلط کاریوں کیلئے بھی استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں بے سہارا اور لاچار بچیاں بھی غیر محفوظ ہو چکی ہیں،کاشانہ ہاؤس اور دالامان میں بچیوں کےساتھ اِنسانیت سوز سلوک کیاجارہاہے،سیاہ کاریوں میں حکومتی شخصیات کاملوث ہونابزدارسرکارکیلئےاِنتہائی شرمندگی کاباعث ہے۔اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ کاشانہ ہاؤس کی سپر ٹینڈنٹ کے انکشافات کی ایک ہفتے کے اندر شفاف تحقیقات کی جائیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک اَفشاں لطیف کو کاشانہ ہاؤس میں ہی کام کرنے دیا جائے،وزیر اعلیٰ اَفشاں لطیف کے الزامات کی انکوائری کرائیں اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لائیں۔ واضح رہے کہ کاشانہ لاہور جہاں بے سہارا خواتین کو سہارا دیا جاتا ہے، وہاں کی انچارج نے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ یتیم بچیوں کیلئے قائم کئے گئے سرکاری ادارے سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے اپنی برطرفی کی وجہ بتاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کاشانہ میں زیر پرورش کم عمر بچیوں کی شادیاں نہ کروانا میرا جرم بن گیا ۔ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے ڈپارٹمنٹ کو ایک شکایت بھیجی تھی کہ مجھ پر یہاں کہ ڈائریکٹر جنرل افشاں کرن امتیازکی طرف سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کروانے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔جن میں 16 سے 18سال کی لڑکیاں شامل ہیں،کم عمر بچیوں کی شادی کا مقصد کچھ منظور نظر اعلیٰ حکام اور صوبائی وزیر کو نوازنا تھا۔ میری اس شکایت پر سی ایم آئی ٹی نے 5 اگست کو اپنی انکوائری کا آغاز کیا اور پہلے مرحلے میں ہی مجھے معطل کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی افشاں کرن امتیاز کو عہدے سے ہٹا دیا ۔ افشاں لطیف کا کہنا ہے کہ دوران انکوائری سی ایم آئی ٹی نے ہتک آمیز رویہ اختیار کیا اور معاملے کو دبانے کیلئے پریشرائز کیا گیا۔ سی ایم آئی ٹی کی جانب سے مجھ پر دبائو ڈالا جانے لگا کہ اپنی شکایت واپس لوں ۔ ایسا نہ کرنے کے باعث ادارہ کا بجٹ بند کر دیا گیا، کاشانہ میں زیرپرورش بچیوں کو کھانے پینے، کپڑوں اور تعلیمی سہولیات سے محروم کر دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے ایسا نہ کرنے پر ادارے کا بجٹ بھی بند کر دیا گیا۔اور ساتھ ہی پورا عملہ بھی تبدیل کر دیا۔بچیوں کو کھانے پینے اور دیگر سہولیات سے محروم کر دیا گیا۔میں نے 25نومبر کو چئیرمین وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کو تحریری خط لکھا۔اور وارنگ دی کہ ان کو وارننگ دی کہ وہ کاشانہ میں جو بھی غیر قانونی کام کروانا چاہتے ہیں جو ان کے مفادات ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے ادارہ کا بجٹ بند کروایا ہوا ہے اور جن اعلیٰ حکام اور صوبائی وزیر کو نوازنے کیلئے ادارے میں بے جا مداخلت کر رہے ہیں لہٰذا اس غیر قانونی کام سے باز رہیں ایک صوبائی وزیر کو خوش کرنے کے لیے ادارے میں بے جا مداخلت کی جا رہی ہے۔ میں نے اس خط کی کاپی دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو بھیجی۔اگلے روز ہی مجھے عہدے سے ہٹا یا گیا جس کا مقصد تھا کہ جن غلط کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہوں وہ جاری رہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان اداروں میں بچیوں کو روٹی اور کپڑے کے نام پر استعمال کیا جاتا ہے۔اعلیٰ حکومت عہدیداروں کو خوش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہاں پر وزیروں کی من مانیاں بھی کی جاتی ہیں۔ ایک اور ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے کاشانہ کا داخلی دروازہ توڑ دیا ہے۔مجھے گرفتار کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے آج یہ لوگ پھر فتح حاصل کر رہے ہیں،ثبوتوں کو مٹا رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ میری آواز آگے تک پہنچائیں ہو سکتا ہے اس کے بعد میں کچھ نہ کہہ سکوں،مجھے نہیں معلوم اب میرے ساتھ کیا ہو گا۔ جب کہ وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ کاشانہ میں خاتون کو ٹرانسفر کیا گیا تھا تاہم وہ چارج نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔کاشانہ میں ٹرانسفر کو خاتون نے ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔سروس میں ٹرانسفر ہوتی رہتی ہے معاملے کو حل کرا لیں گے۔

تازہ ترین خبریں