02:26 pm
اب تبدیلی نظر نہ آئی تو تحریک انصاف بھی ختم، کیاآپ چاہتے ہیں

اب تبدیلی نظر نہ آئی تو تحریک انصاف بھی ختم، کیاآپ چاہتے ہیں

02:26 pm

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی کاشف عباسی کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ ن کہے کہ ہم ایک پیج پر ہیں اور وہ 5 سال گزار لیں تو وہ کر سکتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی بھی شاید کر ہی لے۔کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اور کچھ ہو یا نہ ہو سندھ میں تو ہمیں حکومت مل ہی جائے گی۔لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس طرح نہیں چل سکتی۔پی ٹی آئی کی حکومت ایک نعرے پر آئی تھی،وہ تبدیلی کے نعرے پر آئی تھی۔
اگر لوگوں لو تبدیلی پسند نہ آئی تو اُن کا اگلے الیکشن میں اتنا برا حال ہو گا کہ یہ پارٹی ہی ختم ہو جائے گی۔کاشف عباسی نے مزید کہا کہ میں دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ پی ٹی آئی ختم ہو جائے گی،اگر ن لیگ کی بات کریں تو انہیں پتہ ہے کہ ہم ایک الیکشن ہار بھی گئے تو اگلے الیکشن میں آ جائیں گے کیونکہ یہ جماعتیں سسٹم میں چل رہی ہیں۔کاشف عباسی نے کہا کہ عمران خان کو یہ سوچنا چاہئیے کہ وہ کیسے یاد رکھے جائیں گے ایک یوٹرن وزیراعظم یا کام نہ کرنے والے وزیراعظم کے طور پر؟۔کاشف عباسی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے کارگردگی دکھانا دیگر جماعتوں سے بھی زیادہ ضروری ہے۔وزیراعظم عمران خان سوچیں کہ انہوں نے پچھلے دس سالوں میں جن کو امیدیں دلائی ان کا کیا حال ہو گا؟۔اس لیے عمران خان کو سوچنا چاہئیے کہ وہ کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں، وہ بطور وزیراعظم لوگوں کو کس طرح یاد رہیں گے۔جب کہ سینئرصحافی مہر بخاری کا کہنا ہے کہ اس حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ قبرستان بھرا ہوا ہے ایسے لوگوں سے جو خود کو ناگزیر سمجھتے تھے۔مہر بخاری نے مزید کہا کہ کسی ایک کے آنے یا جانے سے ادارے ختم نہیں ہوتے۔ یہ بات ہماری ہر حکومت بھول جاتی ہے۔مہر بخاری نے کہا ہے مجھے لگتا ہے کہ اس سارے بحران کے بعد عمران خان مزید کمزور ہوئے ہیں۔کیونکہ اتنا کچھ جب کھل کر سامنے آ جاتا ہے،اور پچھلے ایک سال سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑے، وزراء تبدیل ہوئے،آئی ایم ایف میں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ، یوٹرنز وغیرہ،اس کے بعد عمران خان کمزور ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ جب کہ عمران خان کے اتحادیوں کی زبانیں بھی اب کھل چکی ہیں۔وہ بھی اپنی پوزیشن واضح کر رہے ہیں۔یہ وقت ہے جب عمران خان کو اپوزیشن کی پوزیشن سمجھ جانی چاہئیے کہ ان بھی ایک رائے اور وقعت ہے۔اس معاملے پر اپوزیشن خاموش رہی۔پی ٹی آئی ہر معاملے پر تو گذشتہ حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتی۔اب یہ معاملہ اتنا حساس ہے تو اس میں بھی اپوزیشن کی رائے بہت اہم ہے۔