07:39 am
عمران خان دراصل جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں کتنی توسیع چاہتے ہیں

عمران خان دراصل جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں کتنی توسیع چاہتے ہیں

07:39 am

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع چاہتے ہیں لیکن پارلیمنٹ میں قانوں سازی کے بعد صورتحال واضح ہو جائے گی۔ملتان میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون سازی صرف حکومت کا مسئلہ نہیں ہے، امید ہے اس حوالے سے حزب اختلاف اپنا کردار ادا کرے گی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آئین میں رہتے ہوئے کی گئی ہے۔ آرمی چیف کو خطے کی صورتحال کے باعث تین سال کی توسیع دی گئی ہے۔ بھارت سے مسائل اور خطے کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ ہندوستان کبھی بھی ایڈونچر کرسکتا ہے لیکن ہماری مسلح افواج ہر وقت تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا موجودہ صورتحال میں اہم کردار ہے۔ آرمی چیف کے معاملے پر عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق قانون سازی کی جائے گی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آرمی چیف کے حوالے سے جو کچھ بھی حکومت نے کیا آئین میں رہتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کابینہ سے مشاورت کی۔ آرمی چیف کی مد ت ملازمت میں توسیع ملکی مفاد میں کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے صورتحال کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا ہے۔ عدالت میں درخواست دائر ہوئی، عدالت کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا۔ صدر نے وزیراعظم کی مشاورت سے نوٹیفکیشن جاری کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) ہیومن رائٹس کمیشن نے کشمیر کی صورتحال پر جائزہ پیش کیا ہے۔او آئی سی نے پاکستان کے موقف کی من وعن تائید کی ہے۔ کشمیر میں کرفیو کو اور کالے قوانین کے نفاذ کو 117 دن ہوگئیہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بابری مسجد پر بھارتی عدالتی فیصلے پر ہمیں تشویش ہے۔ بابری مسجد کے فیصلے پر او آئی سی نے پاکستان کی تشویش کی تائید کی ہے۔ او آئی سی پر تنقید ہوتی تھی کہ ادارہ اپنا کردار ادا نہیں کررہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ براعظم افریقہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے پاکستانی سفارتکاروں کے کانفرنس کا انعقاد کیا۔ افریقہ کے 54 ممالک کی ابادی 1.2 ارب ہے۔ کانفرنس سے افریقی ممالک سے تعلقات میں بہتری آئے گے۔ پاکستان بامقصد افریقہ پالیسی بنارہا ہے۔ جلدی نیروبی میں اجلاس بلائیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کوشش ہے جن چیزوں کی افریقہ میں مانگ ہے وہ برآمد کریں۔ سفارشات کو سامنے رکھ کر افریقہ سے متعلق پالیسی بنا رے ہیں۔ افریقہ میں ٹریڈ افسران کیلیے 45 افراد کو منتخب کیا گیا ہے۔ افریقی ممالک سے سیاسی اور تجارتی تعلقات بڑھا رہیں ہیں۔ افریقہ ایک بڑی منڈی ہے، ہم پاکستان مصنوعات برآمد کرینگے۔