01:31 pm
اگرہمیں جنت میں جانے کی اجازت ملی توکس فیصلے کی وجہ  سے ملے گی ،چیف جسٹس نے اہم ترین فیصلے کا بتا دیا

اگرہمیں جنت میں جانے کی اجازت ملی توکس فیصلے کی وجہ سے ملے گی ،چیف جسٹس نے اہم ترین فیصلے کا بتا دیا

01:31 pm

لاہور(ویب ڈیسک)چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہاہے کہ خواتین ججز بہت سارے مقدمات میں بہترفیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اس لیے کوشش کریں کہ عدالتوں میں مردججز کی طرح سخت رویہ اختیارنہ کریں۔پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیرانتظام تیسری تین روزہ وومن ججز سے متعلق پروگرام کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بہت سے وکلاء خواتین ججز کے سامنے پیش ہونے کواپنی تذلیل سمجھتے ہیں خواتین ججز کونااہل سمجھاجاتاہے لیکن بطورخواتین ججز فریقین آپ کے رویے سے زیادہ متاثرہوتےہیں۔انہوں نے مزید کہا
کہ خواتین ججز کی عدالتوں سے مقدمات ٹرانسفر کرنے کی درخواستیں دی جاتی ہیں لیکن خواتین ججز اپنے رویے، کوڈ آف کنڈکٹ اور فیصلوں سے منفی لوگوں کی سوچ کو بدلیں۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں ججز کا سخت رویہ وکلا اور فریقین پر برا اثر ڈالتا ہے. عدالتوں کو شائستہ انداز میں میرٹ اور قانون کے مطابق چلائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ خواتین کو معاشرے میں مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے، وراثت میں حق کا معاملہ ہو یا روزمرہ گھریلو تشدد کا سلسلہ، خواتین کی اکثریت ایسے مظالم کا شکار ہے، ہمارا آئین اور مختلف قوانین خواتین کو خاص حقوق دیتے ہیں، ضابطہ فوجداری کے تحت خاتون ملزم کو ضمانت کے حصول میں آسانی موجود ہے۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری اور ہائیکورٹس کے بعد بہت جلد سپریم کورٹ می‍ں بھی خاتون جج بینچ کا حصہ ہوں گی۔علاوہ ازیں جینڈر بیسڈ کورٹس (صنفی امتیاز سے متعلق الگ عدالتوں کے قیام) سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہمیں جنت میں جانے کا حکم ہوا تو جینڈر بیسڈ کورٹس کی وجہ سے ہوگا کیونکہ معاشرے کے مظلوم افراد کو بہترین انصاف کی فراہمی بہت بڑی عبادت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم عدالتوں میں انصاف کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں، ہمیں مقدمات کی ایک کاز لسٹ دی جاتی ہے جو ہمارے پاس امانت ہوتی ہے، اگر ہم پوری کاز لسٹ میں موجود مقدمات نہیں سن لیتے تو لوگوں کی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔