06:04 pm
تحریک انصاف نے پنجاب میں ہار مان لی، حکومتی شخصیت کی جانب سے اہم اعلان کر دیا گیا

تحریک انصاف نے پنجاب میں ہار مان لی، حکومتی شخصیت کی جانب سے اہم اعلان کر دیا گیا

06:04 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )تحریک انصاف نے پنجاب میں ہار مان لی، حکومتی شخصیت کی جانب سے اہم اعلان کر دیا گیا ۔۔۔معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں اس لیے ہم پنجاب میں کوئی ایڈونچر نہیں کرسکتے ہیں۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نئے آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب کو اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ لاہورمیں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ہم مانتے ہیں کہ بیورو کریسی میں بے چینی اور عدم اعتماد کی لہر ہے لیکن جنہوں نے کچھ نہیں کیا انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ، وہ اپنا کام جاری رکھیں، ہم نیب اور اینٹی کرپشن کومشتبہ عناصر کو پکڑنے سے نہیں روک سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے ہاتھ باندھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرعمران خان کی ٹیم نالائق ہوتی تو وہی وزیر قانون دوبارہ حلف نہ لیتے، میدان میں ٹیم کھیلتی ہے اور کپتان صرف ہدایات دیتا ہے، ہمارے پاس پنجاب میں بہت کم اکثریت ہے اس لیے ہم کوئی ایڈونچر نہیں کرسکتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے بیورو کریسی اور پولیس کے اعلی حکام سے ملاقات کی ہے اور میرٹ کے حوالے سے ہدایات بھی جاری کی ہیں اورکہا کہ پنجاب میں گورنس کے چیلنجز ہیں نیا مائنڈ سیٹ لانا بے حد ضروری ہے،سابقہ آئی جی کو تھانوں کی بہتری اور جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کا ٹاسک دیا مگر وہ پورا نہیں کر سکے اس لیے تبدیلی کے اقدامات کرنے پڑے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ عمران خان نے پولیس کو بھی مائنڈ سیٹ اور تھانہ کلچر بدلنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں اور کہا ہے کہ ہمارے ارکان آپ کے پاس جائیں تو انہیں عزت دیں لیکن کام میرٹ پر ہونا چاہیے، طاقتور کے خلاف کمزور کو تحفظ دینا ضروری ہے، چیف سیکریٹری اور آئی جی کو وزیراعظم عمران خان نے تین ماہ کا وقت دیا ہے، ان تین ماہ میں دونوں کی کارکردگی کا معائنہ کیا جائیگا۔ اس سے قبل معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومت آرمی چیف کی مدت میں توسیع سے متعلق قانون قومی اسمبلی اور سینیٹ سے باآسانی منظور کرالے گی۔ ایک اوربیان میں معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے کہا تھاکہ قانون سازی میں اپوزیشن بھی ساتھ دے گی کیوں کہ یہ سیاسی نہیں قومی معاملہ ہے، عدالت نے معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج کر پارلیمنٹ کی بالادستی پر مہر لگائی ہے۔

تازہ ترین خبریں