09:17 am
حاکم علی زرداری جن سے 28ملین ڈالر قرض لینے گئے ، تہمینہ درانی کی بیسٹ فرینڈ اور غلام مصطفیٰ کھوکھر کی منہ بولی بہن

حاکم علی زرداری جن سے 28ملین ڈالر قرض لینے گئے ، تہمینہ درانی کی بیسٹ فرینڈ اور غلام مصطفیٰ کھوکھر کی منہ بولی بہن

09:17 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کہتے ہیں کہ یہ دنیا عبرت کی جگہ ہے اور یہاں قدرت ہمیں ایسے ایسے مناظر دکھاتی ہے جنہیں دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہر شے پر قبضہ قدرت رکھنے والا ہمارا مالک پل بھر میں کیسے کسی غریب کو امیر اور کسی دولتمندکو فقیر بنا دیتا ہے کہ لوگ دیکھیں اور عبرت پکڑیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ جو ان دنوں سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے وہ ہے ایک خاتون عذرآپا کا ۔
زیر نظر تصویر میں موجود عذرآ پا ایک پرانی آلٹو گاڑی میں رہائش پزیر ہیں اور یہی ان کی کل کائنات ہے ۔ عذراآپا کہ تصویر کوچاہے جتنا مرضی غور سے دیکھ لیں آپ کو احساس تک نہیں ہوگا کہ یہ خاتون انتہائی تعلیم یافتہ ہیں ۔ ایک دو نہیں بلکہ 9ایم اے کرنےوالی یہ خاتون دنیا کے سب سے بڑے بینک BCCIکے مختلف شعبوں کی سربراہ تھیںاور انہیں دنوں سابق صدر آصف علی زرداری کےوالد حاکم علی زرداری لندن میں ان کے پاس اس بینک کے توسط سے 28ملین ڈالر کی خطیر رقم پاکستان میں ایک شوگر مل لگانے کی غرض سے بطور قرض لینے بھی آئے ، لاہور کینٹ میں موجود پولو گرائونڈ عذرآپا کے نانا نے بنوایا تھا ۔ ان کی والدہ کا گھر کراچی میں تھااور کاردار پر ان کی سب سے بڑی کوٹھی تھی ۔ عذراآپا عارف جان روڈ (لاہور کنٹونمٹ ) میں رہا کرتی تھیں جس کی مالیت کروڑوں میں نہیں بلکہ اربوں میں تھی ۔ تہمینہ درانی عذراآپا کی سب سے اچھی دوست جبکہ غلام مصطفیٰ کھر ان کے منہ بولے بھائی تھے اور وہ عذرا آپ کے ساتھ لندن میں رہا کرتے تھے جبکہ پی سی بی چیئر مین شہریار خان بھی ان کے رشتے دار ہیں ۔ عذرا آپا نے بتایا کہ جب ایک سازش کے تحت BCCIکو بند کیا تو وہ پاکستان آگئیں اور یہاں ایک بوتیک کا کام شروع کیا مگر کچھ فراڈ لوگوں کی وجہ سے عذرا آپا کا سارا پیسہ ڈوب گیا ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کا تو خاندان انتہائی امیر کبیر تھا مگر آپ ان حالات میں زندگی گزار رہی ہی تو انہوںنے بڑا ہی مبہم مگر انتہائی معنی خیز جملہ بولا ، کہنے لگیں : گدھے پر کتابیں لاد دینے سے وہ عالم نہیں بن جاتا اور پیسہ آنے سے خاندان نہیں بنتا ، یہ بات کہ میرے پاس یہ تھا ، وہ تھا ، وہ سب تھا ، اب یہ دیکھنا ہے کہ میرے پاس ہے کیا ؟ ۔ انہوںنے کہا مجھے آج بھی پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے تھام لے گا ، میرے حالات انشا اللہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ عذراآپا نے بتایاکہ وہ نو مضامین میں ماسٹرز کر چکی ہیں ، 4سال بنکنگ کا کو رس لندن سے کیا ہے جبکہ عذرآپا دنیا کے مختلف ممالک سے ساڑھے سات سو کے قریب کورسز کر چکی ہیں ۔ اربوں کی مالک عذراآپا کی کہانی عروج و زوال کی ایک ایسی کہانی ہے جو ہمیں سبق سکھاتی ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں امید کا دامن نہ چھوڑیں ،ہمیشہ محنت پر یقین رکھیں اور اگر ایک بوڑھی ماں اس قدر خود دار ہو سکتی ہے کہ اتنے بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات ہونے پر بھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کو گناہ سمجھے اورزندگی کے شب روز ایک پرانی کار میں گزارکر بھی اللہ کا شکر ادا کرے ، پر امید رہے توآج کی نوجوان نسل کیلئے یہ اتنا مشکل کیوں ہے ؟ آخر کیوں اتنی جلدی ہمارے نوجوان نا امید ہو جاتے ہیں،اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔

تازہ ترین خبریں