01:17 pm
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک ٹاپ بیوروکریٹ ریٹائرمنٹ سے دو ہفتے قبل مستعفی

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک ٹاپ بیوروکریٹ ریٹائرمنٹ سے دو ہفتے قبل مستعفی

01:17 pm

ڈالاگیاتھالاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ ایک ٹاپ بیوروکریٹ ریٹائرمنٹ سے دو ہفتے قبل استعفیٰ پیش کر دے۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئیر صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ بشیر میمن نے بے نامی اکاؤنٹس میں بہت زیادہ کام کیا اور اطلاعات کے مطابق جو خبریں آ رہی ہیں کہ ملک کی ایک اہم ترین شخصیت نے کہا ہےپاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف پر آرٹیکل 6 دے دیں۔
جس پر بتایا گیا کہ یہاں آرٹیکل 6 کا مقدمہ نہیں بنتا۔اسی طرح ایک مسلم لیگ ن کی خاتون کے خلاف کاروائی کرنے کو کہا گیا جس پر کہا گیا کہ ایسا مناسب نہیں رہے گا۔بشیر میمن نے کہا کہ جو قانون کے مطابق ہوا وہ کروں گا۔بشیر میمن کی اس بات پر وہ شخصیت سخت نالاں ہوگئی۔عارف حمید بھٹی نے کہا بشیر میمن نے اسلام آباد سے آنے والا حکم نہیں مانا۔اس کے بعد وہ دو ماہ کی چھٹیوں پر چلے گئے۔16 دسمبر کو ان کی ریٹائرمنٹ ہونے ہیں۔اب جو ان کی نوکری کے دس دن رہ گئے تو انہیں تبادلے کے آرڈر ملتے ہیں۔جس پر وہ حیران ہوئے اور کہا کہ میری تو نوکری میں ہی کچھ دن رہ گئے۔جس پر انہوں نے افسران نے کہا کہ ہم مجبور ہیں،بشیر میمن نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر میں بھی استفعیٰ دے دیتا اہوں۔واضح رہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے احتجاجاً اپنی ملازمت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھجوا دیا تھا ۔وفاقی حکومت نے تین دن قبل بشیر میمن کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے واجد ضیا ء کو ایف آئی اے کا نیا ڈائریکٹر جنرل تعینات کر دیا تھا۔ بشیر میمن کو عہدے سے ہٹا کر ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو رپورٹ کریں لیکن حکومت کے اقدام سے دلبرداشتہ بشیر اے میمن نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ محض دو ہفتوں 16دسمبر 2019 کو بشیر اے میمن کی ریٹائرمنٹ ہونی تھی لیکن اس کے باوجود چند دن قبل ہی بشیر میمن کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے واجد ضیا ء کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کردیا گیا تھا۔بشیر میمن کو ڈی جی ایف آئی اے کے عہدے سے ہٹانے کے بعد ان کی کسی اور جگہ تقرری نہیں کی گئی تھی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سابق سربراہ نے اپنے استعفے میں تحریر کیا کہ ریٹائرمنٹ سے قبل مجھے ہٹانا میری نظر میں اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت میرے کام سے مطمئن نہیں۔