11:00 am
پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کو فیلڈ مارش بنانے کی تجویز

پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کو فیلڈ مارش بنانے کی تجویز

11:00 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کو فیلڈ مارش بنانے کی تجویز ۔۔۔ سینئیر صحافی ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ خان صاحب اپنے آپ پر فدا ہیں اور اس کی کئی وجوہات بھی ہیں۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ ہر اچھا حکمران ایک ٹیم تیار کرتا ہے،
ان کی تربیت کرتا ہے اور انہیں سکھاتا ہے اور پھر ان سے کام لیتا ہے لیکن اس وقت ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کی گئی نا اہلی کا نقصان یقینی طور پر عمران خان کو ہو سکتا ہے۔لیکن ایک عجیب بات ہے کہ مجھے ایک انتہائی ذمہ دار آدمی نے بتایا ہے کہ آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔جس پر میں نے کہا کہ فیلڈ مارشل تو ریٹائر ہی نہیں ہو سکتا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ نومبر 2016ء کو سپریم کورٹ میں قومی سلامتی اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت سمیت شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے آغاز اور اس میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل مقرر کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے ایگزیکٹو ممبر سردار عدنان سلیم خان مزاری کی جانب اس اپیل کو لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ کی جانب سے 18 اکتوبر کو مسترد ہونے کے بعد منتقل کر دیا گیا تھا۔ اپیل کے مطابق ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق یہ اپیل غیر قانونی اور غیر آئینی ہے کیونکہ اسے عالمی سطح کی ایک پوسٹ کے میرٹ کو نظر انداز کر کے کیا گیا ۔اپنی اپیل میں سردار عدنان خان نے اس حوالے سے فیلڈ مارشلز کی تاریخ پڑھی اور بتایا کہ سابق وزیر اعظم محمد ایوب خان بھی اس عہدے پر مقرر رہ چکے ہیں ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں اس پوسٹ کا وجود ہے۔اس پٹیشن میں کابینہ ڈویژن کے ذریعے وفاقی حکومت، وزیر اعظم نواز شریف اور وزارت دفاع کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ سردار عدنان نے دلیل دی کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آئینی سرحدوں کی حفاظت اور ملک کی سلامتی کے لیے کام کر کے ایک رول ماڈل قائم کیا ہے۔انہوں نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے ذریعے قوم کو ایک نئی بصیرت بخشی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن ضرب عضب دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ایک مربوط آپریشن ہے جسے ابھی باقی ہونا ہے اور مزید یہ کہ ابھی دہشتگرد بھی باقی ہیں۔ مزید یہ کہ آرمی چیف کی زیر نگرانی ملک کی سرحدی اور علاقائی حدود سمیت پاک چین اقتصادی راہداری کی حفاظت اور پاکستن کے خلاف منفی طاقتوں سے لڑنے کے لئے بھی نیشنل ایکشن پلان کی ابتدا اور تشکیل کی گئی۔ اپنے دلائل دینے کے بعد عدنان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ صوابدیدی تھا۔ اپنے دلائل میں انہوں نے گلوبل ٹیرارزم انڈیکس کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی کا یہ مسلسل دوسرا سال ہے۔ پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں اور تحریک طالبان کے متحرک گروہوں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

تازہ ترین خبریں