01:42 pm
 لاہور میں حالات خراب ، معاملہ کس  کے استعفے تک جا پہنچا، کابینہ میں ہلچل مچ گئی

لاہور میں حالات خراب ، معاملہ کس کے استعفے تک جا پہنچا، کابینہ میں ہلچل مچ گئی

01:42 pm

لاہور(ویب ڈیسک)پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلائ کی جانب سے ہنگامہ آرائی جار ی ہے ،کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے گئے ہیں جب کہ وکلاء نے پولیس کی ایک گاڑی کوبھی آگ لگادی ہے ،صدروائی ڈی اے ڈاکٹرعرفان کاکہناہےکہ پی آئی سی میں اب تک 6مریض دم توڑ گئے ہیں
۔جب کہ میڈیارپورٹ کے مطابق پی آئی سی میں 12مریض دم توڑ گئے۔جن میں گلشن بی بی نامی ایک خاتون بھی شامل ہے۔جب کہ دوسری جانب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔جب کہ سوشل میڈیا پر بھی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر اور وکلاء کے مابین معاملہ پہلے حل کیوں نہیں کیا گیا؟۔صارفین کا کہنا ہے کہ جو مریض جان سے گئے ان کا ذمہ دار کون ہو گا۔سوشل میڈیا پر پنجاب حکومت کو فیل قرار دے دیا گیا ہے صارفین کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر خاص طور پر یاسمین راشد کو مستعفی ہونا جانا چاہئیے۔بتایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد بھی اسپتال کے ایک کمرے میں محصور ہو کر رہ گئی ہیں۔کمرے کے باہر ینگ ڈاکٹرز اور گرینڈ ہیلتھ الائنس جمع ہیں۔واضح رہے کہ وکلاء پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زبردستی داخل ہو گئے تھے،پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی۔پی آئی سے کے باہر وکلاء کا ڈاکٹرز کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ذرائع کے مطابق وکلاء نے پی آئی سی میں توڑ پھوڑ شروع کر دی ہے۔وکلاء ایم ایس آفس کے باہر پتھراؤ کرتے رہے جب کہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ وکلاء نے صحافیوں سے بھی بدتمیزی کی،موبائل فونز اور کیمرے بھی چھین لیے۔ پولیس کی بھاری نفری بھی پی آئی سی میں موجود ہے۔پی آئی سی ایمرجنسی کی چھت پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔وکلاء ایمرجنسی کا دروازہ کھول کر زبردستی اندر داخل ہو گئے۔ آپریشن کے دوران عملہ جان بچانے کے لیے فوراََ باہر نکل گیا۔ پولیس کی بھاری نفری بھی پنجاب انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی پہنچ گئی ہے۔ وکلاء نے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد کرنے والے ڈاکٹرز ہمارے حوالے کیے جائیں۔ ڈاکٹر عرفان کو بھی ہمارے حوالے کیاجائے۔