08:32 am
خیبر پختونخوا کے17 سرکاری محکموں میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

خیبر پختونخوا کے17 سرکاری محکموں میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

08:32 am


پشاور: خیبر پختونخوا کے17 محکموں میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہو اہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے 17 سرکاری محکموں میں 23 ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیاں سامنے آئیں ہیں۔ نجی چینل کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں 2017 سے 2018 تک کمزور اقتصادی نظام سے قومی خزانے کو 10 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
 
جبکہ 4 ارب روپے سے زائد رقم کی واپسی ممکن نہ ہوسکی۔ مالی بے ضابطگیوں میں محکمہ بجلی سب سے آگے رہا جس سے قومی خزانے کو 5 ارب 80 کروڑ سے زائد نقصان اٹھانا پڑا۔ بہترین تعلیمی نظام فراہم کرنے کی دعویدار خیبرپختونخوا حکومت نے محکمہ تعلیم کو بھی نہ بخشا اور مالی بے ضابطگیوں سے 4 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا ۔ جبکہ دوسری جانب سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال سے ایک کروڑ روپے نقصان ہوا۔ واضح رہے اس سے قبل صوبہ بلوچستان کے سرکاری محکموں میں بھی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا تھا۔ بلوچستان میں18 - 2017 کے دوران مختلف صوبائی محکموں میں 59 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا تھا ۔افسران کی غفلت ، من پسند افراد کو نوازنے اور قوائد کی خلاف ورزیوں سے حکومتی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا ۔ بلوچستان سے متعلق آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ برائے 19-2018 میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، مالی سال18 -2017 کے دوران بلوچستان حکومت نے 259 ارب روپے خرچ کئے جن میں سے 161 ارب روپے کا آڈٹ کیا گیا، آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ کے افسران کی غفلت، من پسند افراد کو نوازنے، قوائد کی خلاف ورزی سے حکومتی خزانے کوبھاری نقصان برداشت کرنا پڑا، سب سے زیادہ محکمہ آب پاشی میں 9 ارب 17 کروڑ روپے کی بے قاعدگیاں ہوئیں۔

تازہ ترین خبریں