02:28 pm
اٹارنی جنرل کے استعفیٰ سے معاملہ ٹھنڈا نہ ہوسکا، فروغ نسیم اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سازش کے ماسٹر مائینڈ قرار

اٹارنی جنرل کے استعفیٰ سے معاملہ ٹھنڈا نہ ہوسکا، فروغ نسیم اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سازش کے ماسٹر مائینڈ قرار

02:28 pm

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان بار کونسل نے انور منصور کے بعد فروغ نسیم کو وزیر قانون کے منصب سے فوری ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔بار نے سابق اٹارنی جنرل انور منصورخان کی سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی اور استعفی کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق انور منصور خان نے کہا کہ متنازعہ بیان کا حکومت اور متعلقہ شخصیات کو علم تھا، عدلیہ کو بدنام کرنے کے ماسٹر مائنڈ فروغ نسیم ہیں۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے
کہ فروغ نسیم نے ہمیشہ غیر جہوری قوتوں کیلئے کام کیا اور اب مزید تاخیر کئے بغیر انہیں وفاقی کابینہ سے فوری الگ کیا جائے۔پاکستان بار کونسل نے فروغ نسیم کے غیر جمہوری اقدمات کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان بار کونسل نے سابق اٹارنی جنرل انومنصور خان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد وہ اپنا عہدہ چھوڑ چکے ہیں۔بار کونسل نے انور منصور خان پر الزام لگایا تھا کہ وہ حکومت کے کہنے پر عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔صدر پاکستان کو ارسال کیے گئے استعفے میں سابق اٹارنی جنرل نے لکھا’میرے لیے یہ افسوس کی بات ہے کہ جس بار کونسل کا چیئرمین ہوں اس نے استعفے کے مطالبا کیا‘۔ بار کونسل نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ انور منصورخان عدالت سے تحریری معافی بھی مانگیں۔